تمہیں جاناں اجازت ہے، کوئی بھی راستہ چُن لو
ہمارے مُنتظر ٹھہرو یا ہم کو الوداع کہہ دو
تمہیں جاناں اجازت ہے
ہمارے پائوں میں تو وقت کی زنجیر لپٹی ہے
قبل اس کے کہ تھک جائو، ہمارے ساتھ چل کے تم
محبت کی تھکاوٹ تم کو ہم سے بد گماں کردے
قبل اس کے کہ ہر اک واپسی کی راہ کھو جائے
جو سوچا بھی نہیں ہم نے، وہی کل کو جو ہوجائے
تمہیں جاناں اجازت ہے، کوئی بھی راستہ چُن لو
ہمارے مُنتظر ٹھہرو یا ہم کو الوداع کہہ دو
ہمارا تم سے وعدہ ہے ، تمہاری یاد کو ہم تو
سدا دل کے دریچے میں یونہی آباد رکھیں گے
تمہیں ہم یاد رکھیں گے
تمہیں جاناں اجازت ہے
تم اپنے حوصلے میں جب تھکاوٹ سی کبھی پائو
کسی پیارے سے مُکھڑے کی حسیں آنکھوں میں کھو جائو
اجازت ہے تمہیں جاناں، اگر اُس پل جو تم چاہو
کوئی بھی فیصلہ کرلو
ہمارے مُنتظر ٹھہرو یا ہم کو الوداع کہہ دو

( نازیہ کنول نازی )

تبصرے

حالیہ تبصرے

زیادہ دیکھی گئی تحاریر

دوستی ۔۔۔ میری ایک شعری کاوش

کمال یہ ہے

انتخابِ کلام مسدس حالی