نصیب



انسان دوسرے کی دولت کو دیکھ کر اپنے حالات پر اس قدر شرمندہ کیوں ہوتا ہے؟ یہ تقسیمِ تقدیر ہے۔ ہمارے لیے ہمارے ماں باپ ہی باعث تکریم ہیں، ہماری پہچان ہمارا اپنا چہرہ ہے، ہماری عاقبت ہمارے اپنے دین میں ہے، اسی طرح ہماری خوشیاں ہمارے اپنے حالات اور ماحول میں ہیں۔ مور کو مور کا مقدر ملا، کوے کو کوے کا۔ ہم یہ نہیں پہچان سکتے کہ فلاں کے ساتھ ایسا کیوں ہوا اور ہمارے ساتھ ویسا کیوں ہوا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے پوچھا کہ 'اے رب العالمین آپ نے چھپکلی کو کیوں پیدا فرمایا؟'۔ اللہ نے جواب دیا: 'عجب بات ہے، ابھی چھپکلی پوچھ رہی تھی کہ اے رب! تم نے موسیٰ کو کیوں پیدا کیا؟ '۔

 بات وہی ہے کہ انسان اپنے نصیب پر راضی رہے تو اطمینان حاصل کرے گا۔ نصیب میں تقابلی جائزہ نا جائز ہے۔

واصف علی واصف از دل دریا سمندر

تبصرے

زیادہ دیکھی گئی تحاریر

حجاج کرام کے لیے الوداعی نصیحتیں - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

ہجرتِ مصطفی کا منظوم واقعہ

الفاظ کی نئی دنیا (صراحہ)

زمرہ جات

رمضان غزلیں امید سوئے حرم سورہ البقرہ دعا سفرِ حج استقبال رمضان، ایمان، میرے الفاظ خطبہ مسجد نبوی میری شاعری پاکستان شاعری یاد حرم لبیک اللھم لبیک محبت خلاصہ قرآن سفرنامہ صراط مستقیم شکر اچھی بات، نعت رسول مقبول توبہ حج 2015 حج 2017 حمد باری تعالٰی خوشی #WhoIsMuhammad سورۃ الکہف ملی ترانے نمل استغفار توکل سفر مدینہ سورہ الرحمٰن پیغامِ حدیث، کچھ دل سے حکمت کی باتیں دوستی سورہ الکوثر سورہ الکھف علامہ اقبال علم 9نومبر آزادی باغبانی عید مبارک فارسی اشعار، قائد اعظم قرآن کہانی معلومات یوم دفاع آبِ حیات جنت خطبہ حجتہ الوداع خطبہ مسجد الحرام رومی، زیارات مکہ سورۃ الناس شکریہ قربانی محمد، محمد، سوشل میڈیا، نیا سال، 2017 پیغام اقبال یوم پاکستان 11-12-13 16December2014 APS اردو محاورہ جات بارش تقدیر جنت کے پتے حج 2016 حیا، ذرا مسکرائیے سورج گرہن 2015 سورہ العلق، سورہ المؤمنون سورۃ العصر سورۃ الفاتحہ، طنز و مزاح عاطف سعید عورت قرآن لیس منا ماں مسدس حالی مصحف موسیقی نمرہ احمد والد یوم خواتین، عورت
اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل