صلاح الدین کی نسل: امام غزالیؒ اور امتِ مسلمہ کی تعمیرِ نو: ۔۔۔ قسط نمبر 03

 



صلاح الدین ایوبی کی نسل کی تیاری

امام غزالیؒ اور امتِ مسلمہ کی تعمیرِ نو


تاریخ کے اوراق میں جب ہم صلیبی جنگوں کا ذکر کرتے ہیں، تو اکثر ہماری توجہ صرف میدانِ جنگ اور تلواروں کے ٹکراؤ پر ہوتی ہے۔ لیکن ڈاکٹر حسن علوان کی اس فکر انگیز ویڈیو میں ایک بہت ہی گہرا اور منفرد پہلو سامنے لایا گیا ہے: "صلاح الدین ایوبی کی جیت محض ایک فوجی فتح نہیں تھی، بلکہ یہ برسوں کی علمی اور روحانی تربیت کا نتیجہ تھی۔"

شکست کے سائے اور مسلمانوں کی حالت

ویڈیو کا آغاز اس دردناک منظر کشی سے ہوتا ہے کہ جب صلیبی حملہ آور مسلمانوں کی سرزمین پر قابض ہوئے، تو مسلمانوں کی حالت کیا تھی۔ مسلمانوں کے پاس وسائل اور تعداد کی کمی نہ تھی، لیکن وہ آپس میں اس قدر منقسم تھے کہ دشمن سے لڑنے کے بجائے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف تھے۔ یہاں تک کہ حلب اور دمشق کے بعض حکمران اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے صلیبیوں کے ساتھ مل کر اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے خلاف سازشیں کر رہے تھے۔

امام غزالیؒ کا "تشخیصی" نسخہ

اس گھٹن زدہ ماحول میں امام غزالیؒ نے امت کے زوال کی جڑ کو پہچانا۔ ان کا موقف یہ تھا کہ صرف سیاسی تبدیلی یا جنگ سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ مسئلہ "دلوں کی بیماری" میں چھپا تھا۔

 * علماء کا کردار: امام غزالیؒ نے دیکھا کہ اس وقت کے بہت سے علماء صرف بحث و مباحثہ اور درباری عہدوں کی دوڑ میں لگے ہوئے تھے۔

 * دنیا کی محبت: مسلمانوں کے دلوں میں موت کا خوف اور دنیا کی آسائشوں کی محبت اس قدر بڑھ گئی تھی کہ وہ حق کے لیے قربانی دینے کی صلاحیت کھو چکے تھے۔

امام غزالیؒ نے اپنی مشہورِ زمانہ تصنیف "احیاء العلوم" کے ذریعے ایک ایسی تحریک شروع کی جس کا مقصد مسلمانوں کے اندرونی تزکیہ اور اخلاق کی اصلاح تھا۔ انہوں نے خود اپنی زندگی سے مثال قائم کی، اپنی بڑی علمی پوزیشن چھوڑی اور برسوں خلوت میں رہ کر اپنے نفس کی اصلاح کی۔

دو طرح کے نظریات: قلیل مدتی بمقابلہ طویل مدتی

ویڈیو میں ایک بہت ہی دلچسپ نکتہ بیان کیا گیا ہے کہ اس وقت دو طرح کے مخلص لوگ کام کر رہے تھے:

 * جذباتی اور فوری حل (Short-term): جیسے قاضی ابن الخشاب جو لوگوں کو فوری طور پر جہاد اور دفاع کے لیے تیار کرتے تھے۔ یہ ایک "سی" (C grade) حاصل کرنے جیسی کوشش تھی تاکہ مکمل طور پر فیل نہ ہو جائیں۔

 * تعمیرِ نو اور پائیدار حل (Long-term): جیسے امام غزالیؒ، جنہوں نے آنے والی نسلوں کی ایسی تربیت کی جو "اے" (A grade) حاصل کر سکیں، یعنی القدس کو مستقل طور پر آزاد کروا سکیں۔

سازشیں اور قربانیاں

اس سفر میں مودود اور برقی جیسے نیک دل مجاہدین نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہیں دشمنوں سے زیادہ اپنوں کی غداریوں اور باطنی فرقے (Assassins) کے حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن ان تمام رکاوٹوں کے باوجود، وہ بیج بویا جا چکا تھا جس نے آگے چل کر عماد الدین زنگی، نور الدین زنگی اور بالآخر صلاح الدین ایوبی جیسی شخصیات کو جنم دیا۔

آج کے لیے سبق

یہ ویڈیو ہمیں پیغام دیتی ہے کہ جب تک امت کے افراد انفرادی طور پر اپنے دلوں سے دنیا کی محبت نہیں نکالیں گے اور اپنے کردار کی اصلاح نہیں کریں گے، تب تک محض نعروں اور جذباتی تقریروں سے بڑی تبدیلیاں نہیں آتیں۔ صلاح الدین کی فتح دراصل امام غزالیؒ کی شروع کی ہوئی اس روحانی اور علمی تحریک کا ثمر تھی جس نے مسلمانوں کو دوبارہ ایک "امت" بنایا۔

اگر آپ تاریخ کے اس اہم موڑ کو تفصیل سے سمجھنا چاہتے ہیں، تو ڈاکٹر حسن علوان کی یہ سیریز ضرور دیکھیں!


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں