پیر, اپریل 01, 2013

Samandar




سمجھ سکو تو یہ تشنہ لبی سمندر ہے
بقدرِ ظرف ہر اک آدمی سمندر ہے

ابھر کے ڈوب گئی کشتیِ خیال کہیں
یہ چاند ایک بھنور، چاندنی سمندر ہے

جو داستاں نہ بنے دردِ بیکراں ہے وہی
جو آنکھ ہی میں رہے وہ نمی سمندر ہے

نہ سوچیے تو بہت مختصر ہے سیلِ حیات
جو سوچئے تو یہی زندگی سمندر ہے

تو اس میں ڈوب کے شاید ابھر سکے نہ کبھی
مرے حبیب مری خامشی سمندر ہے

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں