تدبرِ قرآن۔۔ سورہ الرحمٰن ۔۔۔ حصہ اول

سورہ الرحمٰن
تفسیر و تدبر
نعمان علی خان
حصہ اول

 ﷽
اسلام  وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الرَّحْمَٰنُ
(اللہ جو) نہایت مہربان
عَلَّمَ الْقُرْآنَ
اسی نے قرآن کی تعلیم دی۔

سورہ الرحمان سے پہلے جو سورہ ہے وہ سورہ القمر ہے۔ قمر کا مطلب ہوتا ہے چاند۔ اور اس سورہ یعنی الرحمان کے بعد سورہ الواقعہ ہے. سورہ القمر شروع ہوتی ہے ان معجزوں سے جو رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں پیش آئے ۔
ابھی ہم سورہ الرحمان سے پہلے اور بعد کی سورت کا سورہ الرحمان سے موازنہ کرتے ہیں کہ کیسے سورہ الواقعہ اور القمر سورہ الرحمان سے ملتی ہیں۔
رسول اللہ ﷺ سے کوئی معجزہ دکھانے کا مطالبہ کیا گیا تو آپ ﷺ نے چاند کی طرف اشارہ کیا اور اللہ ﷻ نے چاند کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ سورہ القمر میں اللہ اسی واقعہ کی بات کرتے ہیں۔ کہ
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ
قیامت قریب آ پہنچی اور چاند شق ہوگیا۔
اسکا مطلب ہے کہ چاند کا دو ٹکڑوں میں بٹنا قیامت کے نزدیک آنے کی ایک نشانی ہے۔ اور یہ بھی ایک بڑا معجزہ ہے۔
الرحمان کا مطلب ہے بہت زیادہ، آپکی سوچ سے بھی زیادہ مہربان۔ یہ سورہ بھی قیامت کے دن کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور معجزہ کی بات سے شروع ہوتی ہے۔ اور وہ نشانی اور معجزہ ہے قرآن۔ قرآن کا نازل ہونا اس دنیا کے ختم ہونے کی نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی ہے۔ اور یہ عظیم ترین معجزوں میں سے ایک معجزہ ہے۔
سورہ القمر میں اللہ کہتے ہیں 'اور اگر وہ (کافر) کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ایک ہمیشہ کا جادو ہے۔'
سورہ الرحمان میں اللہ ان لوگوں (کافر) کے ایک مسئلے کی بات کرتے ہیں اور وہ مسئلہ ہے ناشکری۔
اللہ ان کی ناشکری کی بات بار بار کرتے ہیں اور ایک ہی سوال بار بار دہراتے ہیں۔
سورہ القمر میں اللہ کہتے ہیں قیامت کے روز یہ لوگ ایسے نکلیں گے جیسے بکھری ہوئی ٹڈیاں۔
ان لوگوں (کفار) کا موازنہ ایک کمتر مخلوق سے کیا جارہا ہے۔ اور جب ہم سورہ الرحمان پڑھتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ 'موازنہ' کی بہت بات ہے اس سورہ میں۔
سورہ القمر میں آخری بات جو اللہ کرتے ہیں وہ یہ کہ 'وہ لوگ بیٹھے ہوں گے پاک جنت میں ہر چیز کے پروردگار کے دربار میں'۔ اس کا مطلب کہ وہ اللہ کے دربار میں بیٹھے ہوں گے۔ اور سورہ الرحمان کی بھی آخری آیات میں سے ایک آیت یہی ہے 'سبز قالینوں اور نفیس مسندوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے
سورہ الرحمان کی ترتیب کچھ یوں ہے۔
  1. الرحمان قرآن کی عظمت بیان کرنے سے شروع کی جاتی ہے۔
  2. پھر اللہ کے کچھ احسانات کا ذکر ہے جو اس انسانیت کے لئے اللہ نے کیے۔
  3. مجرموں کا ذکر
  4. وہ لوگ جن کو سزا کا خوف ہے اور اس خوف کی وجہ سے وہ دنیا میں اچھے کام کرتے ہیں اور جنت کے حقدار ہیں۔
  5. ایک دوسری جنت کا ذکر
اب اس ترتیب میں پہلے نمبر پر کیا ہے؟ قرآن کی عظمت بیان کرنا۔ اب ہم سورہ واقعہ میں کیا دیکھتے ہیں۔۔
سورہ الواقعہ کے آخر میں اللہﷻ قرآن کی عظمت بیان کرتے ہیں۔ اللہ ستاروں کی قسم کھاتے ہیں اور پھر قرآن کی بات کرتے ہیں۔ اللہﷻ قرآن میں مختلف چیزوں کی قسم کھاتے ہیں اور سورہ القمر میں ستاروں کی جگہ کی قسم کھاتے ہیں۔ اللہ کہتے ہیں 'ہمیں ستاروں کی منزلوں کی قسم، اگر تم سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے' (سورہ الواقعہ 75،76)
اللہ ہمیں بتاتے ہیں کہ ستاروں کی منزل کی قسم لینا بھی کوئی عام بات نہیں ہے۔ جب اللہ قرآن میں کسی چیز کی قسم کھاتے ہیں تو اس چیز کا آگے بیان کی جانے والی بات سے کوئی تعلق ہوتا ہے۔ اس کیس میں آگے قرآن کی بات کی جارہی ہے۔
ہمیں ستاروں کی منزلوں کی قسم۔ اگر تم سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے- یہ ایک بڑے رتبے کا قرآن ہے۔ (سورہ الواقعہ 75، 76، 77)
تو یہاں قرآن کا ستاروں کی منزل سے کیا تعلق؟
ستارے اتنی دور آسمان پر ہیں اور قرآن یہاں زمین پر۔
عرب کے لوگ صحرا میں رہتے تھے تو صحرا کی گرمی کے پیش نظر وہ رات کے وقت سفر کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔ اور رات کے وقت ستاروں کی جگہوں سے اپنی منزل کا اندازہ لگاتے تھے۔ اللہ نے ستاروں کا قرآن کی آیات سے موازنہ کیا ہے۔ یہ بہت خوبصورت موازنہ ہے کہ اللہ نے قرآن کو ہماری زندگیوں میں منزل کی سمت کا تعین کرنے کے لیے اتارا ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے ستارے ہیں بہت اوپر اور ہم سے بہت دور۔۔۔ اور یہی ہے قرآن کی عظمت۔ بہت اونچا اور بہت روشن۔
اب سورہ رحمان کی ترتیب میں دوسرے نمبر پر آتا ہے اللہ کے احسانات کا ذکر۔ اور ہم دیکھتے ہیں سورہ واقعہ میں آخر سے دوسرے نمبر پر (سیکنڈ لاسٹ) جس چیز کا ذکر کیا گیا ہے وہ ہے اللہ کے احسانات۔
اسی طرح سورہ الرحمان میں تیسرے نمبر پر مجرموں کا ذکر ہے اور سورہ الواقعہ میں آخر سے تیسرے نمبر پر (تھرڈ لاسٹ) مجرموں کا ذکر ہے۔
سورہ الواقعہ کے پہلے اور دوسرے نمبر کا بنیادی مضمون وہ لوگ ہیں جو جنت کے حقدار ہیں۔ دائیں ہاتھ کے لوگ اور سابقین اور ایسے ہی سورہ الرحمان کے آخر میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو جنت کے حقدار ہیں۔۔
سورہ الواقعہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ پوچھ رہے ہیں:
  • تم نے انسان کو نطفہ سے بنایا یا ہم نے بنایا؟
  • تم نے درخت اگائے یا ہم نے اگائے؟
  • تم آسمان سے پانی برساتے ہو یا ہم برساتے ہیں؟
  • تم نے جلانے کیلئے لکڑی پیدا کی یا ہم نے کی؟
اور سورہ الرحمان میں اللہ ایک سوال بار بار دہراتے ہیں۔
"تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت جھٹلاو گے"۔

جب آپ لوگوں سے بات کررہے ہوتے ہیں تو بہت ضروری ہوتا ہے کہ آپ سامعین کو جانتے ہوں۔ ایک بہترین تقریر کے لئے تین چیزوں کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔

1- بہترین مواد
2- بات کرنے کا انداز: خالی یہ نہیں دیکھنا کہ آپ کہتے کیا ہیں بلکہ یہ بھی کہ آپ کس طرح کہتے ہیں۔ بعض اوقات جو آپ کہتے ہیں وہ اچھا تو ہوتا ہے لیکن کہنے کا انداز بالکل متاثرکن نہیں ہوتا۔ سو بات کرنے کا طریقہ ایسا ہو کہ دوسرے پر اثر کرے۔
3- آپکا مواد اور انداز آپ کے سامعین کے موافق ہونا چاہیے۔ یعنی سامعین جیسے ہوں، اسکے عین مطابق آپکا مواد اور اندازہو۔
قرآن ایک بہترین اور پرفیکٹ کلام ہے۔ یہ ایک بہترین کلام ہے اور اسکا بات کرنے کا طریقہ بھی بہترین ہے اور ہر طرح کے سامعین سے یہ اسکے مطابق بات کرتا ہے۔

ہر سورہ ایک خاص طرح کے سامعین کے لئے اتاری گئی تھی لیکن مجموعی طور پر یہ پوری انسانیت سے مخاطب ہے۔ قرآن مختلف مواقع پر نازل ہوتا تھا۔ اور پھر رسول اللہ اسکو پڑھ کر سناتے تھے۔ اس وقت اس کو سننے والے لوگ اس زمانے کے تھے۔

سو بنیادی طور پر جب یہ سورہ نازل ہوئی تو یہ کس سے مخاطب تھی؟ کچھ حکایات کے مطابق یہ ابتدائی مکی سورت ہے۔ اور کچھ کے مطابق مکی دور کے اواخر کے دنوں میں نازل ہوئی۔ اس بارے میں اصلاحی کی روایت سب سے قابل بھروسہ روایات میں سے ایک ہے۔ جنہوں نے کہا کہ:
جب آپ کسی ضدی انسان سے بات کررہے ہوں تو آپکو اپنی بات بار بار دہرانی پڑتی ہے۔ جب آپ کسی پر ناراض ہورہے ہوں تو آپ اپنی بات بار بار کہتے ہیں۔ اور یہ بار بار بات کا دہرانا اصل میں غصہ کی نشانی ہے۔ اور اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ اللہ کسی ایسے گروپ کے لوگوں سے مخاطب ہیں جو انتہائی ضدی ہوگئے ہیں۔ اسی لیے اللہ بار بار اپنی بات دہراتے ہیں۔
سورہ القمر میں انسانوں کو (کمتر شے) ٹڈیوں سے تشبیہ دی گئی تھی۔ اور اللہ اب اس سورت میں بھی ناراض ہیں۔ اور یہ ناراضگی بھی اسی لئے ہے کہ اللہ بہت مہربان ہے۔ آپ اس سب کے دوران ایک لفظ دماغ میں رکھیں "الرحمان"۔ اگر آپ اس لفظ کو دماغ میں نہیں رکھیں گے تو اس سورت کو نہیں سمجھ سکیں گے۔
ایک انسان اور جانور میں فرق یہی ہے کہ انسان اچھے برے کی تمیز رکھتا ہے اور جانور نہیں۔ ایک انسان اس وقت عمارت کو چھوڑ دے گا جب اسکو خطرے کا الارم سنائی دے گا۔ اور ایک جانور تب تک نہیں چھوڑے گا جب تک وہ آگ نا دیکھ کے یا جلنے کی بو نا محسوس کرے۔ ایک جانور کے لئے کسی چیز پر یقین کرنا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ دیکھ نا لے۔ ایک انسان لاجک سے بات سمجھ کر یقین کرلیتا ہے۔ اگر کوئی خبر قابل اعتماد ذرائع سے آرہی ہے تو وہ اس پر یقین کرلیں گے۔ ایک جانور کو آگ کے پاس جا کر اسکی حدت محسوس کرنا ہوتی ہے بھاگنے کے لئے۔ ایک انسان دور سے دھواں دیکھ کر ہی بھاگ جائے گا۔ انسان کے پاس سوچ کر فیصلہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

قرآن کا انکار کرنے والوں کے پاس انکار کرنے کا سب سے بڑا جواز کیا ہوتا ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ جب انہوں نے کچھ دیکھا نہیں تو وہ اس سب پر کیسے یقین کر لیں؟ پچھلی سورت میں لوگوں نے کہا کہ انہوں نے کچھ دیکھا نہیں تو وہ کیوں یقین کر لیں؟ تو اللہ نے کہا 'تم نے وہ بستیاں نہیں دیکھیں جنہیں ہم نے تباہ کیا؟ تم نے دیکھا نہیں ہم نے عاد اور ثمود کے ساتھ کیا کیا؟ تم نے قوم لوط کا حال نہیں دیکھا؟ قرآن خود ایک بڑا ثبوت ہے لیکن اسکو وہی سمجھتے ہیں جو اسکو سمجھنا چاہتے ہیں۔ اللہ نے آپکو بولنے اور کمیونیکیٹ کرنے کی جو صلاحیت دی ہے اسکا استعمال کریں اور قرآن سے مستفید ہوں۔ پچھلی سورت میں اللہ نے کہا کہ اگر وہ دیکھتے بھی تو کہتے یہ ایک جادو ہے۔ اللہ کہہ رہے ہیں کہ یہ کسی معجزے کا مطالبہ کررہے ہیں؟ اگر انکو معجزہ دکھایا بھی جائے تو یہ ایسے ہی رہیں گے۔

سورہ الجاثیہ میں اللہ بتاتے ہیں قیامت کے دن مجرم جب آئیں گے اپنا نتیجہ لینے تو کہیں گے 'اے ہمارے مولا، اب ہم دیکھتے ہیں اور سننے کے لئے تیار ہیں' لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی ہوگی۔ اب تو بس سزا چکھنے کا وقت ہوگا۔ وہ لوگ جنہوں نے سننے سے انکار کر دیا اللہ ان سے بات نہیں کرے گا۔ اللہ نے ان سے بہت بار بات کی تھی لیکن انہوں نے اللہ کی بات سننے سے انکار کردیا تھا۔

 الرحمان-----
بہت زیادہ، انسان کی سوچ سے بھی زیادہ مہربان۔ اسی وقت رحم کرنے والا۔

اس سورہ کی پہلی آیت ہے الرحمان۔۔ یہ ایک جملہ نہیں ہے۔
ایک بات یہاں ہم سب سمجھ لیں کہ قرآن کی کچھ آیات ایسی ہیں جو جملے نہیں بلکہ ایک لفظ پر مشتمل ہیں۔ تو آیت پورے جملے کے ختم ہونے پر ختم کیوں نہیں ہوتی؟ صرف ایک لفظ پر پوری آیت مشتمل کیوں ہوتی ہے؟
قرآن میں ہی ایک اور جگہ پر اللہ بتاتے ہیں کہ "تاکہ وہ سوچیں اور آیت پر تدبر کریں"۔ یعنی آگے جانے سے پہلے آپ یہاں رکیں اور اس ایک لفظ پر تدبر کریں۔ سوچیں کہ اسکا کیا مطلب ہے۔

اللہ بہت زیادہ رحمان ہیں۔ اللہ اسی وقت آپ پر رحم کررہے ہیں۔ جب ہم اس آیت (الرحمان) پر تدبر کررہے ہوں تو ہمیں اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر غوروفکر کرنا ہے۔ اور آگے جانے سے پہلے آپکو سوچنا ہے ان مہربانیوں کے بارے میں جو اللہ آپ پر کررہے ہیں۔ جن کو آپ ابھی اس وقت انجوائے کررہے ہیں۔ ابھی سوچیں۔ کون سی چیزیں ہیں وہ؟ آنکھیں، مسجد، زبان، آپکے زندہ والدین، آپکے صحتمند بچے، حلال کمائی، گھر، صحت، دولت، دوست، کمیونٹی۔ کتنی ساری چیزیں ہیں جن کے لئے ہمیں شکرگزار ہونا چاہیے؟

علم القرآن
اللہ ہمیں بتاتے ہیں ان تمام چیزوں کی لسٹ میں جو چیز سب سے پہلے آنی چاہیے، جو سب سے بڑا کرم ہے آپ کے رب کا آپ پر وہ ہے قرآن کا آپکو پڑھایا جانا۔ اللہ ہمیں قرآن پڑھارہے ہیں۔
یعنی یہ الرحمان ہے جس نے قرآن سکھایا۔
یہ بات کہ اللہ نے ہمیں قرآن دیا، یہ بھی اللہ کی ساری مہربانیوں میں سے بڑی مہربانی ہے۔ قرآن اللہ کی ہم پر رحمت کی نشانی ہے۔

دوسرا نقطہ یہاں یہ ہے کہ اللہ نے یہ نہیں کہا کہ اس نے قرآن نازل کیا۔ بلکہ کہا کہ اس نے قرآن سکھایا۔ کتاب دینے اور سکھانے میں کیا فرق ہے؟
سکھانے میں وقت لگتا ہے۔ اگر آپکے پاس کتاب ہے تو ہوسکتا ہے آپکو اس کتاب کا کچھ علم نا ہو۔ جبکہ سکھانا دو لوگوں کی مشترکہ کوشش کا عمل ہے۔ یہ استاد اور طالب علم دونوں کے لئے مشکل ہوتا ہے۔ اللہ کہتے ہیں اس نے قرآن سکھایا۔ دوسرے لفظوں میں اس نے صرف ہمیں یہ کتاب خود سے پڑھنے کے لئے نہیں دے دی۔ کہ ہم خود سے اسکو پڑھیں اور اس کے مطابق زندگی گزاریں۔ بلکہ سکھایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نزول بھی اس سکھانے کے عمل کا حصہ ہے۔
پہلی اور دوسری آیت خاص قسم کی آیات ہیں۔ رحمان ہے وہ جس نے قرآن سکھایا۔ یہ بہت مہربانی ہے اسکی کہ اس نے ہمیں قرآن سکھایا۔ یعنی ہمارے قرآن سیکھنے کا کریڈٹ صرف اللہ کو جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن سکھارہے ہیں، تو وہ خود بھی طالب علم ہیں اور اصل استاد اللہ ہے۔
یہ بہت پاورفل آئیڈیا ہے۔ اور آج بھی اگر ہم قرآن کی تعلیم حاصل کررہے ہیں تو ہمارے استاد کا ایک استاد ہوگا، اور اسکا ایک استاد اور یونہی یہ سلسلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک اور ان سے جبریل علیہ السلام اور آخر میں اللہ تک جاتا ہے۔ یعنی یہ تعلیم اللہ سے آرہی ہیں۔

والدین اپنے بچوں کو برانڈڈ اور مشہور اسکولوں میں بھیجتے ہیں۔ اور اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ انکا استاد فلاں مشہور شخصیت ہے۔ لوگ بڑے فخر سے بتاتے ہیں انہوں نے کس سکول سے گریجویشن کیا۔ اپنا رعب جھاڑنے کی آرزو ہوتی ہے سب میں۔

لیکن جب ہم قرآن پڑھ رہے ہوتے ہیں تو ہم اللہ کے شاگرد ہوتے ہیں۔ اور اس آیت میں اللہ یہ اعزاز دے رہے ہیں قرآن کے طالب علموں کو۔

  عَلَّمَ کا مطلب ایسا سکھانا جس میں وقت درکار ہو۔ اب کوئی بات بتانے اور سکھانے میں فرق ہوتا ہے۔ اور اس میں ہمارے لئے ایک سبق بھی ہے کہ ہمیں آرام سے قرآن کی تعلیم حاصل کرنی چاہیے (یعنی جلدبازی نہیں کرنی چاہئے)
قرآن کو بس ایک بار پڑھ لینا کافی نہیں ہوگا۔ سورہ فاتحہ کو چھے مہینے تک گہرائی میں جاکر پڑھنے سے فائدہ ہوتا ہے۔ سو آپ آرام سے قرآن کا مطالعہ کریں۔ آپ ہائی اسکول میں پڑھتے ہوئے ماسٹر ڈگری لینے کا نہیں سوچ سکتے۔ ہر ایک کا اپنا الگ سفر ہے۔ اور ہر علم والے کے اوپر ایک علم والا ہوتا ہے۔ ہمیشہ کوئی نا کوئی ایسا ہوتا ہے جس کے پاس آپ سے زیادہ علم ہو۔ سو آپ خود کا موازنہ کسی اور سے مت کریں۔ آپکو قرآن خود کے لئے سیکھنا ہے۔

عربی میں 'عَلَّمَ' (علم القرآن والا) کا تعلق فعل کے اس گروپ سے ہے جسکو دو مختلف تعریفوں (ڈیفینیشنز) سے سمجھایا جاتا ہے۔ اگر عربی میں کوئی کہے 'میں نے پڑھایا'، تو سننے والا دو چیزوں کی توقع رکھے گا۔ 'کس کو پڑھایا' اور 'کیا پڑھایا'۔ اس آیت میں "کیا پڑھایا" کا جواب دیا گیا ہے۔ یعنی قرآن پڑھایا۔ اور دوسرا سوال یعنی "کس کو پڑھایا" کا جواب موجود نہیں ہے۔ اللہ نے کس کو پڑھایا؟

اسکا مطلب یہ ہے کہ تمام انسانوں اور جنوں میں سے بھی کوئی بھی آسکتا ہے اور قرآن سیکھ سکتا ہے۔ ناصرف اللہ نے قرآن سکھایا، بلکہ اس نے ہم سے پچھلی گزری ساری نسلوں کو اور آنے والی ساری نسلوں کو سکھایا۔

تدبر کا آخری نقطہ: لفظ 'قرآن'۔ القرآن کے بہت سے معنی ہیں۔ القرآن وہ جو بار بار پڑھا جائے۔ اللہ نے ہمیں ایک اشارہ دیا ہے کہ ایک کامیاب طالب علم کیسے بنا جاسکتا ہے۔ اس کتاب (قرآن) کے نام میں ہی اسکو پڑھنے کا طریقہ موجود ہے۔ یعنی بار بار دہرانا اور بار بار غور وفکر کرنا۔ یہ ایک کبھی نا ختم ہونے والا خزانہ ہے جس سے آپ کبھی تھکتے نہیں ہیں۔ یہ ہمیشہ آپکو متجسس رکھتا ہے۔

جب کوئی قرآن کی تعلیم حاصل کرتا ہے تو اسکا مطلب اس نے اللہ کو اپنا استاد مان لیا ہے اور خود کو اللہ کا طالبعلم مان لیا ہے۔ اور پھر وہ مکمل طور پر جان جاتے ہیں کہ الرحمان سے رشتہ قائم کرنا کیسا ہوتا ہے۔

جاری ہے ۔۔۔۔

نعمان علی خان

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں