مطالعہ سورہ یوسف ۔۔۔ کتاب اور قرآن -- حصہ اول


مطالعہ سورہ یوسف
"کتاب اور قرآن" حصہ اول




بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم
آج ہم سورہ یوسف کا باقاعدہ آغاز کریں گے۔ اسکی پہلی آیت ہے۔

 الر ۚ تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ
ترجمہ: ا ل ر۔ یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں۔

سب سے پہلے ہم بات کرتے ہیں اس میں آئے حروف مقطعات کی۔ وہ سورتیں جن میں ایک جیسے حروف مقطعات ہوں ان سورتوں کا آپس میں کوئی لنک ضرور ہوتا ہے، یا اللہ چاہتے ہیں کہ ہم ان سورتوں کا آپس میں کوئی تعلق
تلاش کریں۔ ۔ جیسے ا ل ر، والی سورتیں۔
دسویں سورہ سے لے کر تئیسویں سورہ تک یہ تمام سورتیں مکی ہیں۔ اور ان میں سے پانچ ایسی ہیں جن کا آغاز 'الر' سے ہوتا ہے۔ سورہ یوسف بارہویں سورت ہے، اور اس سے پہلے سورہ سورت یونس ہے جو کہ دسویں ہے اسکا آغاز بھی 'الر' سے ہوتا ہے۔
سورہ یونس کی پہلی آیت ہے، "ا ل ر، یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں۔"

یعنی سورہ یوسف میں 'کھلی کتاب' کہا گیا اور سورہ یونس میں حکمت والی کتاب۔
اسکے بعد گیارہوں سورہ کا آغاز بھی انہی الفاظ سے کیا گیا ہے،
اسکے بعد سورہ یوسف ہے، اس بعد تیرہویں سورہ رعد ہے، جسکا آغاز 'المر' سے ہے۔
چودہویں اور پندرہویں سورتوں کا آغاز بھی ایسے ہی 'الر' سے ہے اور پھر الر کے بعد کتاب کی کوئی خصوصیت بتائی گئی ہے۔ 
ہم حروف مقطعات کا مطلب تو نہیں جانتے لیکن ان سب کا آغاز الر سے کر کے اللہ ہمیں کچھ تو سمجھانا چاہ رہے ہیں۔
سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ حروف مقطعات کا استعمال کرنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ اللہ جو کچھ جانتا ہے، وہ آپ یا میں نہیں جانتے اور نا ہی سب کچھ جان سکتے ہے، نا ہمیں سب کچھ جاننے کی ضرورت ہے۔ جو ہماری ہدایت اور رہنمائی کے لئے کافی تھا اللہ نے وہ سب ہمیں قرآن میں سکھا دیا ہے، اور جو نہیں بتایا یا سکھایا، اسکا مطلب یہی ہے کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

اب آپ اس سورہ میں دیکھیں، یہ ایک بہت لمبی کہانی ہے، لیکن کہانی کی بہت کی تفصیل ہمیں نہیں بتائی گئی، اس پوری سورہ میں یوسف علیہ السلام کے والد یعقوب علیہ السلام کا نام نہیں لیا گیا، قرآن میں اور جگہ پر بتایا ہے
ان کا نام لیکن یہاں نہیں۔ اس کے علاوہ مجھ سے لوگ اکثر پوجھتے ہیں عزیز مصر کی بیوی کا نام کیا تھا (قرآن میں کہیں بھی اس کا نام نہیں بتایا گیا) یا مجھ سے لوگ پوچھتے ہیں کیا بعد میں اس کی شادی یوسف علیہ السلام سے ہوگئی تھی؟

اگر یہ تفصیل ہماری ہدایت کے لئے ضرورت ہوتی تو اللہ ہمیں بتادیتے، اور اگر اللہ نے نہیں بتائی تو اس کا یہی مطلب ہے نا کہ ہمیں ہدایت حاصل کرنے کے لئے اس تفصیل کی ضرورت نہیں۔ لیکن ہم لوگ اصل بات، اصل مقصد چھوڑ کر ان چیزوں کے پیچھے پڑجاتے ہیں کہ اصحاب کہف کا غار کہاں ہے، اصحاب کہف کتنے تھے۔

الر کے بعد اللہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ ایک کھلی/روشن کتاب ہے، اب اگر کوئی یہ کہے کہ مجھے کسی تاریخی واقعے کی فلاں تفصیل نہیں مل رہی قرآن میں، اور وہ مجھے مطلوب ہے، میرے کچھ شکوک و شہبات ہیں، تواللہ آپ کو سورہ شروع ہونے سے پہلے ہی بتارہے ہیں کہ یہ ایک واضح کتاب ہے، اور اس میں جتنی آپ کو جاننے کی ضرورت ہے، اتنی تفصیل درج ہے۔
جو چیزیں آپ کو بتائی نہیں جارہی اللہ کی طرف سے، ان کی کھوج میں مت لگ جایا کریں، اگر وہ آپ کے فائدے کا ہوا تو اللہ آپ کو بتادے گا۔

اگلا لفظ تلک ہے، جس کا مطلب ہے 'وہ آیات'، اور میرا ماننا ہے یہاں 'وہ' سے مراد لوح محفوظ میں موجود قرآن ہے جو اللہ نے خود لکھا۔ وہاں جو کتاب ہے اس میں ساری تفصیل موجود ہے، اور جو کتاب آپ کو دی گئی ہے اس میں آپکی ضرورت کی ہر تفصیل موجود ہے۔

اگلا لفظ ہے کتاب۔ کتاب ایسی جیز کو کہتے ہیں جس کو ہاتھ سے لکھا گیا ہے، لیکن ہم جانتے ہیں، اور قرآن بھی ہمیں بتاتا ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے قرآن کے نزول سے پہلے نا کبھی لکھا نا پڑھا تھا۔ یہاں کتاب استعمال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کو جو سکھایا جارہا ہے، جو آپ پر نازل ہورہا ہے، وہ ایک مکالمہ نہیں ہے، وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی بیان کی گئی بات نہیں ہے، بلکہ یہ ایک کلام ہے جو اللہ کے پاس ہمیشہ سے لکھا ہوا تھا، کتاب کی شکل میں محفوظ تھا، اور آگے جاکر بنی نوع انسان کے پاس کتاب کی شکل میں محفوظ ہونے والا ہے۔

مجھے پتا ہے آپ میں سے بہت لوگ سورہ یوسف میں اس کی کہانی کی وجہ سے دلچسپی رکھتے ہیں لیکن ہمیں بس یہ نہیں دیکھنا کہ بتایا کیا جارہا ہے، بلکہ یہ بھی دیکھنا ہے کہ کس طرح بتایا جارہا ہے۔ اللہ کے بتانے کے طریقے پر بھی غور کیا کریں۔ ایک استاد جانتا ہے کہ اس نے اپنے طالب علم کو کس طرح پڑھانا ہے، کون سا سبق کون سی کہانی کیسے شروع کرنی ہے۔ اور اللہ سے بہتر استاد کوئی نہیں، لہٰذا ہمارا فوکس بس کہانی پر ہی نہیں ہونا چاہیے، بلکہ کہانی پر جانے اور اس سے سبق لینے سے پہلے اس بات پر بھی فوکس کریں کہ بیشک ان آیات کا کہانی سے کچھ لینا دینا نہیں لیکن اللہ نے ان کو یہاں کیوں نازل کیا ہے؟ کوئی تو وجہ ہوگی نا؟ غور کریں کہ اللہ نے سورت کس طرح شروع کی ہے، اور اس میں کیا سبق ہے۔

کچھ بھی لکھ کر بتانے یا اس کو بول کر بتانے میں بہت فرق ہوتا ہے، جب آپ کچھ لکھ رہے ہوتے ہیں، کوئی مضمون، فیس بک پوسٹ، کوئی کتاب، وغیرہ وغیرہ، آپ اس کو لکھتے ہیں، پھر پڑھتے ہیں، غلطیاں نوٹ کرتے ہیں، ایڈیٹنگ کرتے ہیں، یعنی آپ اس کو ایک بہت فارمل سی تحریر بناتے ہیں۔ اس کے برعکس جب آپ کچھ بول کر کسی کو بتاتے یا سناتے ہیں تو آپ اپنی بات میں ایڈیٹنگ وغیرہ نہیں کرسکتے، آپ ایک (speech formal) نہیں بناتے، ہے نا؟ ہم غلطیاں کر دیتے ہیں، گرامر، ایکسپریشنز، وغیرہ کا زیادہ خیال نہیں کرتے۔ بول کر کچھ بتانے میں غلطی کے امکان انتہائی زیادہ ہوتے ہیں، وہ پرفیکٹ نہیں ہوتی۔ 
یہاں اب قرآن خود کو کتاب کہہ کر بلاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ قرآن یہ دعوی کررہا ہے، کہ یہ ایک 'لکھی جا چکی' کتاب ہے، یہ بس ایک بار کہے گئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خود کے الفاظ نہیں ہیں جو کبھی بھی بدلے جاسکیں۔ یہ کتاب ہمیشہ ایسے ہی قائم رہے گی۔

اب اس آیت کے سب سے اہم حصے کی طرف آتے ہیں۔ 'المبین'،،،،، اسکا مطلب میں دو الفاظ بتاوں گا، 'واضح' (کلئیر/شفاف) اور واضح/صاف کرنے والی (clarifying)۔ میں آپکو ان دونوں کا فرق بتاتا ہوں۔
واضح (clear) وہ چیز جو خود میں مکمل اور واضح ہو، یعنی یہ کتاب آپ پر اہنا آپ واضح کردیتی ہے کہ یہ کتاب کسی انسان کی طرف سے نہیں آئی، اس کو انسان سے نہیں لکھا۔ جب آپ اسکو پڑھتے ہیں یہ آپ پر واضح کرتی ہے کہ یہ اس کائنات میں کسی انسان کی لکھی ہوئی کتاب ہو ہی نہیں سکتی، بلکہ یہ کہیں اوپر سے آئی ہے، اس کی طرف سے جو اس ساری کائنات کا مالک ہے۔

اسکے علاوہ یہ واضح ہے، کلئیر ہے اپنے پیغام میں، اس میں لکھا ہوا میسج/پیغام بہت کلئیر، ڈائریکٹ، مکمل اور پرفیکٹ ہے۔ یہ کتاب خود اپنے واضح ہونے کا ثبوت ہے، اسکی ہر بات، کہانی، ہدایت سب کچھ واضح اور مکمل ہے۔

اور اسی میں دوسری بات، یہ کتاب آپ کو واضح طور پر بتاتی ہے کہ اللہ آپ سے کیا چاہتے ہیں، یہ آپ پر سب کچھ واضح کردیتی ہے۔ یہ آپ پر واضح کرتی ہے کہ اس کتاب کا مقصد بس آپ کو کہانیاں سنانا نہیں ہے، آپ کو فلاسفی مہیا کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ آپ سے کچھ مطالبہ بھی کرتی ہے۔ یہ آپ سے مطالبہ کرتی ہے کہ آپ اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق گزارنے کی کوشش کریں۔ اور یہ واضح طور پر آپ کو بتاتی ہے کہ آپ کو اپنی زندگی اس کے مطابق گزارنی ہے۔

اسکی مثال آپ یوں لیں کہ آپ کے پاس ایک لیمپ ہے، جس کے گرد ایسا شیشہ ہے جس پر مٹی اور دھول پڑی ہوئی ہے۔ اور آپ اندھیرے میں کھڑے ہیں، اب آپ لیمپ آن کرتے ہیں۔ کیا آپ اس گندے شیشے کی وجہ سے لیمپ کی روشنی دیکھ سکیں گے؟ یا اس لیمپ کی روشنی باہر دور تک پھیلے گی جس کا شیشہ گندا ہو؟ نہیں نا؟
اب یاد کریں میں نے آپ کو بتایا تھا یہ کتاب 'واضح'، اور 'واضح کرنے والی' ہے، ٹھیک؟

سو یہ تو ہم نے دیکھ لیا کہ یہ کیا واضح کرتی ہے، کہانی، پچھلے قصے، ہدایت، زندگی گزارنے کا طریقہ۔۔۔۔۔۔ ان سب کو واضح کرتی ہے۔

اب یہاں ایک مسلمان کو ڈرا دینے والا نقطہ ہے۔ یہ کتاب تو واضح اور کلئیر ہے ہی اپنے اندر، لیکن۔۔۔۔ اب یہ ہر مسلمان اور امت مسلمہ کا فرض ہے کہ وہ اس واضح/کلئیر کتاب کو لیں، اور اس کو لوگوں پر واضح کریں، اس کو واضح کرنے والی بنائیں۔ اس کو لے کر دنیا والوں کا دکھائیں، ان کو بتائیں کہ حق کیا ہے، ان پر اس کائنات کی سچائی عیاں کریں۔

رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اسی لئے کہا تھا 'بلغوا عني ولو آیةپھیلاؤ میری طرف سے، چاہے ایک آیت بھی ہو۔ یہ امت مسلمہ کا فرض ہے کہ وہ اس کتاب کے پیغام کو پھیلائیں۔ اور یہ پیغام، یہ روشنی آپ تبھی پھیلا سکیں گے نا جب آپ کے خود کے پاس روشنی ہوگی نا؟ ایک انسان کے پاس لیمپ ہی نا ہو، یا اسکا خود کا شیشہ گندا ہو تو وہ دوسروں کو روشنی دے سکتا ہے؟ 

یہ میرے لیے ایک ذاتی موٹیویشن ہے، میں یہی سوچ کر اللہ کے دین کا کام کرتا ہوں۔ میں نے جب پہلی بار اس کتاب (قرآن) کا مطالعہ کیا تو میں حیران رہ گیا کہ آج سے پہلے مجھے کیوں نہیں بتایا گیا کہ یہ کتاب اصل میں ہے کیا؟ میں حیران تھا اس کتاب کی اصلیت دیکھ کر، پھر میں نے سوچا اگر میں اس کتاب سے اتنا عرصہ دور رہا ہوں، اسکا مطلب نہیں سمجھ سکا، تو میں دوسروں کو اس سے محروم نہیں رکھوں گا۔ کیونکہ جب آپ ایک خوبصورت خزانہ پالیتے ہیں، تو آپ کا دل کرتا ہے آپ سب کو دکھائیں، سب کو بتائیں کہ یہ کتنی پیاری چیز ہے، یہی ہوتا ہے جب آپ قران کی خوبصورتی کو سمجھتے ہیں، اس کو جان لیتے ہیں، پھر آپکا دل کرتا ہے آپ سب کے ساتھ اس کو شئیر کریں، سب کو بتائیں کہ اصل میں یہ کتاب ہے کیا۔ یہ اپنے اندر کتنی خوبصورتی لئے ہوئے ہے۔ 

جاری ہے ۔۔۔۔ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں