سورہ الفاتحہ سے تعلق


سورۃ الفاتحہ سے میرا ذاتی تعلق
تحریر: رضوان اسد خان 

 
اے اللہ جو کچھ بھی تو نے مجھے دین اور دنیا میں عطا فرمایا ہے، اس پر میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں اور تیری حمد بیان کرتا ہوں۔ اے اللہ تیرے احسانات مجھ بندہ حقیر پر اس قدر ہیں کہ ان کا شمار ناممکن ہے۔ اور صرف مجھ پر ہی نہیں، تیرا کرم تو تمام جہانوں پر ہے جن کا تو رب ہے۔ تیری عظمت بیان سے باہر ہے اور عقلوں کو عاجز کر دینے والی ہے۔ یہ پوری کائنات جو ہمیں ستاروں سے مزین لاکھوں کہکشاؤں پر مشتمل نظر آتی ہے، یہ تو محض تیرا پہلا آسمان ہے! اور اس کی حیثیت دوسرے آسمان کے مقابلے میں محض ایک لق و دق صحرا میں پڑی انگوٹھی کی سی ہے۔ اور یہی حقیقت دوسرے کی تیسرے اور تیسرے کی چوتھے کی نسبت ہے۔ اور یہ سلسلہ ساتویں آسمان تک ہے جس کا احاطہ تیرے عرش نے ایسے کر رکھا کہ گویا اس کائنات کی کوئی حیثیت ہی نہ ہو اور اس عرش پہ تیری ذات با برکات ہے جس کا تصور ہی ہمارے لیے محال و حرام ہے۔ اللہ اکبر کبیرا۔

”الحمد للہ رب العالمین“
اے اللہ تو اس دنیا میں مومنین پر بھی مہربان ہے اور ان پر بھی جو تجھے نہیں مانتے یا تیرے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں۔ تو ان سے ناراضگی کے باوجود نہ ان کی ہوا بند کرتا ہے، نہ پانی نہ خوراک۔ تیری رحمت چرند، پرند، درند، درختوں، پھولوں، پودوں پر بھی ہے۔ حتیٰ کہ سیاہ اندھیری رات میں، کالی چٹان کے تاریک سوراخ میں دبکی سیاہ چیونٹی کو تو اپنے عرش سے دیکھتا بھی ہے، اس کی سنتا بھی ہے اور اس کے رزق کا انتظام بھی فرماتا ہے!
اے اللہ آخرت میں جب تیری یہ رحمت محض تیرے مومن بندوں کے لیے مخصوص ہو جائے گی تو میرا شمار انہی مخلص ایمانداروں میں فرمانا اور قبر و حشر کی سختیوں سے اپنی رحمت کے ساتھ بچا لینا۔ اے اللہ میرے اعمال تو جنت میں لے جانے والے نہیں۔ بس تو اپنی رحمت سے ڈھانپ کر مجھے جنت الفردوس میں داخل فرما دینا۔
اے اللہ اس کائنات کا بلا شرکت غیرے تو اکیلا مالک ہے۔ اور جب یہ فنا ہو جائے گی تو قیامت والے دن بھی تیرے سوا کسی کی ملکیت اور کسی کی مملکت نہ رہے گی۔ آج جو تیری ملوکیت کے منکر ہیں وہ بھی اس دن ہیبت سے فنا ہو چکے ہوں گے جب تو پوچھے گا:
”لمن الملک الیوم“
تو اے روز جزا کے مالک، اس پچاس ہزار سال کے برابر طویل ترین اور سخت ترین دن میں مجھے ان خوش نصیبوں میں شامل فرمانا جن کے لیے اس کی طوالت ایک پہر سے زیادہ نہ ہوگی۔ جو اس دن تیرے عرش کے سائے میں ہوں گے جب شدید گرمی میں کوئی اور سایہ نہ ہوگا۔ جو تیرے حبیبﷺ کے دست مبارک سے جام کوثر نوش کریں گے جبکہ منافق اور بدعتی پیاس سے تڑپ رہے ہوں گے۔ جن کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے جبکہ کفار کے چہرے ہیبت و مایوسی سے سیاہ پڑے ہوں گے۔ جن کے رفقاء نبیین، صدیقین، شہداء اور صالحین ہوں گے۔ جن کا نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھ میں ہوگا اور جن کے نیکیوں کے پلڑے بھاری ہوں گے۔ اور جو نور اور سلامتی کے ساتھ پل صراط پار کر کے تیری جنتوں کے وارث قرار پائیں گے۔
”مالک یوم الدین“
اے اللہ میں صرف اور صرف تیری ہی عبادت کرتا ہوں۔ تیرے سوا عبادت کے لائق ہو بھی کون سکتا ہے۔
-جب پیدا تو نے کیا تو کسی ”پیراں دتا“ کا کیا سوال۔
-جب رزق دینے والا صرف تو ہے تو”داتا“ کوئی اور کیسے۔
-جب خزانوں کا مالک صرف تو ہے تو کسی”گنج بخش“ کی کیا حیثیت۔
-جب مصائب و آلام سے صرف تو نکالتا ہے تو کوئی اور ”مشکل کشا“ کیوں۔
-جب مسائل میں گھرے بندے کے ہاتھ ہی نہیں دل بھی تھامنے والا صرف تو ہے تو کسی دوسرے ”دستگیر“ کی کیا اوقات۔
-جب بھنور میں پھنسی کشتی صرف تو نکال سکتا ہے تو بیڑے پار کروانے کا ٹھیکہ کسی غیر کا کب سے۔
-جب قانون ساز صرف تیری ذات ہے تو میں کسی جمہوری نظام کے قوانین کو کیوں مانوں۔
-جب تیری رہنمائی دین و دنیا دونوں کے لیے ہے تو سیکولرزم میرے جوتے کی نوک پر۔
اور یہ عبادت تو محض ایک علامت ہے میری عاجزی اور عبدیت کی۔ بندگی کا حق تو میں ساری عمر زمین پہ ناک رگڑ کر بھی ادا نہیں کر سکتا۔
اور اے اللہ میں صرف اور صرف تجھ سے ہی مدد مانگتا ہوں۔
جب حاضر و ناظر تیرے سوا کوئی نہیں تو میرا نعرہ بھی ”یا اللہ مدد“ کے سوا کوئی نہیں۔
دنیا میں بھی تیرے سوا کوئی مددگار نہیں کہ تو اکیلا غنی اور باقی سب تیرے محتاج ہیں۔
اور دین میں بھی تیرے سوا کوئی مددگار نہیں کہ ایک تیرا راستہ ہی ہدایت کا راستہ ہے اور باقی سارے راستے گمراہی کے راستے ہیں۔
اور آخرت میں بھی تیرے سوا کوئی مددگار نہیں کہ تیرا ہی اختیار ہے کہ جسے چاہے جنت میں داخل فرمائے اور جسے چاہے جہنم میں پھینک دے۔
تو اے میرے مالک اپنی مدد کو ہر ہر قدم پر میرے شامل حال رکھنا۔
”ایاک نعبد و ایاک نستعین“
اے اللہ میں نے تیری حمد بیان کی، جیسی تو نے سکھائی، تو خوش ہوا۔
(الحمد للہ رب العالمین)
میں نے تیری ثناء بیان کی، جیسی تو نے سکھائی، تو خوش ہوا۔
(الرحمٰن الرحیم)
میں نے تیری عظمت بیان کی، جیسی تو نے سکھائی، تو خوش ہوا۔
(مالک یوم الدین)
میں نے اقرار کیا کہ تیرے سوا نہ کسی کی عبادت کروں گا، نہ کسی سے مدد مانگوں گا،
(ایاک نعبد و ایاک نستعین)
تو اتنا خوش ہوا کہ تو نے فرمایا مانگ کیا مانگتا ہے، تجھے دیا جائے گا۔
اے اللہ میں تجھ سے وہی مانگتا ہوں جو تو نے مجھے سکھایا ہے اور جو تیرے علم میں میرے لیے سب سے بڑی دولت ہے:
اے اللہ مجھے ”ہدایت“ کی دولت عطا فرما دے۔
وہ ہدایت جو تیرے دین متین کے صراط مستقیم پر چلاتی ہے۔
وہ ہدایت جو تیرے محبوبﷺ کی سنتیں سکھاتی ہے۔
وہ ہدایت جو کفر و نفاق کی بھول بھلیوں سے بچاتی ہے۔
وہ ہدایت جو قبر میں ساتھ نبھاتی ہے۔
وہ ہدایت جو حشر میں پار لگاتی ہے۔
وہ ہدایت جو پل صراط کی تاریکی میں نور بن جاتی ہے۔
وہ ہدایت جو جنت میں پہنچاتی ہے۔
وہ ہدایت جو سیدھا تجھ تک لے جاتی ہے اور تیرے چہرے کا دیدار کرواتی ہے!
اور پھر اس ہدایت پر مرتے دم تک قائم رکھنا۔
کسی موڑ پہ قدم لڑکھڑا نہ جائیں۔
کسی گھاٹی پر شیطان پھسلا نہ دے۔
کسی لمحے میں ایمان ڈگمگا نہ جائے۔
زندہ رہوں تو اسلام پر،
موت آئے تو ایمان پر۔
”اھدنا الصراط المستقیم“
اے اللہ تیرے کچھ ایسے پراسرار بندے ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو تیری محبت اور انعام کا اہل ثابت کیا۔
انہوں نے تیری ذات کو پہچانا جیسا کہ پہچاننے کا حق تھا۔
انہوں نے تیری حمد و ثناء کی جیسا کہ کرنے کا حق تھا۔
یہ وہ بندے ہیں جو روز محشر خوف سے مبرا، عزت والی اونچی مسندوں پر ہوں گے۔
اے اللہ بس انہی نبیین، صدیقین، شہداء و صالحین کے راستے پر مجھے چلا دے جو آخرت میں مجھے ان نفوس قدسیہ کا ساتھی بنا دے اور اسی منزل پر پہچا دے جو ان جلیل القدر ہستیوں کا ابدی مقام ہے۔
اے اللہ رسول اللہﷺ کی سنتوں پہ چلنے والا بنا دے۔
نوحؑ کی ثابت قدمی،
ابراہیمؑ کی عزیمت،
موسیٰ ؑ کا عزم،
عیسیٰ ؑ کا حلم،
ابوبکرؓ کی قربانی و فقاہت،
عمرؓ کا رعب و جذبہ،
عثمانؓ کی فیاضی و حیا،
اور علیؓ کی فراست و بہادری
میں سے تھوڑا تھوڑا حصہ نصیب فرما دے۔ (آمین)
(صراط الذین انعمت علیھم)
بچا لے میرے مالک، مجھے بچا لے اس راستے سے جو تیرے غضب کو دعوت دیتا ہو۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے یہود کی طرح نہایت ارزاں قیمت پر تیرے دین کو بیچ ڈالا۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے اپنے مفاد کے لیے تیرے احکام کو تبدیل کیا۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے حکمرانوں کی کاسہ لیسی میں ان کی مرضی کے فتوے دیے۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے حلال کو حرام کیا اور حرام کو حلال۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے توحید کو شرک بنایا اور شرک کو توحید۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے وحدت الوجود کو توحید بتایا اور اللہ اور رسول میں فرق کو شرک۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے سود کو حلال کیا اور تجارت پر ٹیکس لگائے۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے زنا کو آسان کیا اور نکاح کو مشکل۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے فحاشی کو ثقافت کہا اور دینی اجتماعات کو شرارت۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے جمہوریت کو شورائیت کہا اور خلافت کو انتہاپسندی۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے سیکولرزم کو آزادی کہا اور بنیاد پرستی کو دہشتگردی۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے جہاد کو فساد کہا اور دراندازی کو حق۔
اور ان لوگوں کے راستے سے بھی جو نصاریٰ کی مانند تیری عبادت میں حد سے گزر گئے اور گمراہ ہو گئے۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے نبی کو اللہ کا بیٹا تو نہ کہا پر اس کا جزو بنا دیا۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے نبی کے طریقے کو کافی نہ جانا اور بدعت کو بھی حسنہ کہا۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے نبی کی شفاعت کو اللہ کی پکڑ پر غالب قرار دیا۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے اطاعت اولیاء کو پرستش اولیاء بنا دیا۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے قبروں اور بتوں کے فرق کو مٹا دیا۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے اللہ کے دیدار اور حدیثوں کے انکار کو ولایت کی معراج قرار دیا۔
ان لوگوں کے راستے سے جنہوں نے فنا فی اللہ اور حلول جیسی خرافات کو سلوک کی منزل قرار دیا۔
پس اے اللہ! ان ساری جہنم کو جاتی پگڈنڈیوں سے بچا لے، کہ جن میں سے ہر ایک کے داخلے پر ایک شیطان بیٹھا لبھا رہا ہے۔ اور ان کی آسائشات کو ہمارے لیے وبال
بنا دے۔
اور بس اس ایک شاہراہ مستقیم پر چلا دے جو تیرے انبیاء کا راستہ ہے، جو سیدھا تیری جنت کو جاتا ہے۔ اور اس راہ کی تمام مشکلات ہم پر آسان فرما دے۔آمین۔
(غیر المغضوب علیھم ولا الضالین)
 

تبصرے

زیادہ دیکھی گئی تحاریر

ماہ رمضان نیکیوں کی بہار – مقتبس خطبہ جمعہ مسجد نبوی

خوش ترین زندگى، زندگى با قناعت است

استقبالِ رمضان-22

شکر ہے تیرا خدایا

زمرہ جات

اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل