حد

25dbbd01615e2b76885f6ba37c25d444.jpg
حد
تحریر: کاشف جانباز


ہر چیز حد میں اچھی لگتی ہے۔ اگر حد پار کی جائے تو اچھی چیز بھی بری ہو جاتی ہے۔ اسی طرح وقت کی اصل وقعت، اس  کو  اپنوں کے ساتھ گذارنے میں ہے نہ کہ فرضی لیلٰی مجنوں کے سراب میں  گم گشتہ ہو کر اپنا آپ گنوا دینے میں۔ بگاڑ چاہے جتنا ہو اس میں سدھار کی امید ہمیشہ رہتی ہے۔ جو ہمارے روز و شب کی ترتیب بگڑ گئی ہے یہ ٹھیک ہو سکتی ہے۔ لیکن سیلف اسٹیم کو اس جنجال کے خلاف ابھارنا ہو گا ۔ ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جہاں والدین ہی سوشل میڈیا  پر گھنٹوں مصروف رہتے ہوں وہاں اولاد اس خرابے سے بچ جائے۔ ان میں سے اکثر اچھے مقصد کے لیے موجود ہوتے ہیں لیکن  اس اچھے عمل کا کیا فائدہ جو آنے والی نئی نسل کے اچھے کردار پر منفی اثر ڈال دے؟ یہ بچوں سے بے اعتنائی،بے توجہی کا ہی نتیجہ ہوتا ہے کہ آگے چل کر انہیں مجازی پیار کی  منہ زور آندھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے ۔ یہی وقت جو آج”میں“ کے چکر میں تحلیل ہو رہا ہے اگر اسے اپنوں کو دیا جائے تو مستقبل میں بھی ٹھوس صورت اختیار کر کے معاشرے کو تشکیل دے گا وگرنہ اقدار و روایات کا خروج تو اب بھی ہو رہا ہے۔ اس کا تسلسل ہمیں مہر بند کر دے گا۔


تحریر: کاشف جانباز

You Might Also Like

0 comments