جب میرا رب مجھ سے پوچھے گا

جب میرا رب مجھ سے پوچھے گا

کہتے ہیں کہ یہ نظم سن کر امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اس قدر روئے کہ انکے شاگرد کو خدشہ لاحق ہو گیا کہ کہیں جان ہی نہ دے دیں۔۔۔!!!
اور واقعی پڑھنے والے نے جس دردناک انداز میں پڑھی ہے، کلیجہ پھٹ جاتا ہے۔
خاموشی اور تنہائی میں سنیں اور دعاؤں میں یاد رکھیں۔

إذا ما قال لي ربي .. أما استحييت تعصيني
وتخفي الذنب عن خلقي .. وبالعصيان تأتيني

جب میرا رب مجھ سے پوچھے گا: "کیا میری نافرمانی کرتے ہوئے تمہیں حیا نہ آئی؟"
کیا تم میری مخلوق سے اپنے گناہ چھپاتے اور اب نافرمانی کر کے مہرے پاس آتے ہو؟

فكيف أجيب يا ويحي .. ومن ذا سوف يحميني
أسلي النفس بالآمال .. من حين إلى حين

پھر کیسے جواب دوں گا؟ ہائے افسوس مجھ پر!!! اور کون مجھے بچائے گا؟
میں وقتاً فوقتاً اپنے دل کو آرزوؤں کے ساتھ تسلی دیتا ہوں

وأنسى ما وراء الموت .. ماذا بعد تكفيني
كاني قد ضمنت العيش .. ليس الموت يأتيني

اور میں بھول جاتا ہوں کہ موت کے بعد کیا پیش آنے والا ہے؟۔۔۔ میرے دفنانے کے بعد کیا ہونے والا ہے؟
گویا کہ مجھے زندگی کی ضمانت دی گئی ہے اور موت مجھے آنی ہی نہیں

وجاءت سكرة الموت الشديدة من سيحميني
نظرت إلى الوجوه أليس منهم من سيفديني

اور جب موت کی شدید ترین بےہوشی آن پہنچی تو کون مجھے بچائے گا؟
میں نے لوگوں کے چہروں کی طرف دیکھا۔ کیا ان میں کوئے بھی ایسا نہیں ہے جو مجھے چھڑا لے؟

سأسأل ما الذي قدمت في دنياي ينجيني
فكيف إجابتي من بعد ما فرطت في ديني

عنقریب مجھ سے سوال کیا جائے گا کہ میں نے اپنی دنیا میں کیا آگے بھیجا جو مجھے نجات دلوائے
اس سوال کا میں کیسے جواب دونگا جبکہ میں اپنے دین میں کوتاہی کرتا رہا

ويا ويحي ألم أسمع كلام الله يدعوني 
ألم أسمع لما قد جاء في ق و يس

اور افسوس مجھ پر!! کیا میں نے اللہ کا کلام نہ سنا جو مجھے اپنی طرف بلاتا تھا
کیا میں نے نہیں سنا جو (سورۃ) ق اور یٰس میں کہا گیا؟

ألم أسمع بيوم الحشر يوم الجمع والدين
ألم أسمع منادي الموت يدعوني يناديني

کیا میں نے یوم حشر، جمع کیے جانے والے دن، روز جزاء کے بارے میں نہیں سنا؟
کیا میں نے موت کے منادی کی آواز نہیں سنی جو مجھے پکارتا اور آواز دیتا تھا؟

فيا رباه عبد تائب من ذا سيؤويه 
سوى رب غفور واسع للحق يهديني

اے میرے رب یہ تیری بارگاہ میں ایک توبہ کرنے والا بندہ ہے۔ کون ہے جو مجھے پناہ دے؟
سوائے اس رب کے جسکی مغفرت بہت وسیع ہے، جو مجھے حق کی طرف ہدایت دیتا ہے

أتيت إليك فارحمني وثقل في موازيني
وخفف في جزائي أنت أرجى من يجازيني

میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوا ہوں۔ تو مجھ پر رحم فرما اور میرے میزان کو بھاری کر دے
اور میرا حساب ہلکا کر دے۔ تو ہی وہ بڑی ذات ہے جس سے امید کی جا سکتی ہے، جو مجھے جزا دے گا۔


تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے

زیادہ دیکھی گئی تحاریر

کل کا انتظار نہ کیجیے

حجاج کرام کے لیے الوداعی نصیحتیں - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

تدبر القرآن ۔۔۔ سورۃ المؤمنون ۔۔۔ از نعمان علی خان ۔۔۔ حصہ -1

زمرہ جات

رمضان غزلیں امید سوئے حرم سورہ البقرہ دعا سفرِ حج استقبال رمضان، ایمان، میرے الفاظ خطبہ مسجد نبوی میری شاعری پاکستان شاعری یاد حرم لبیک اللھم لبیک محبت خلاصہ قرآن سفرنامہ صراط مستقیم شکر اچھی بات، نعت رسول مقبول توبہ حج 2015 حج 2017 حمد باری تعالٰی خوشی #WhoIsMuhammad سورۃ الکہف ملی ترانے نمل استغفار توکل سفر مدینہ سورہ الرحمٰن پیغامِ حدیث، حکمت کی باتیں دوستی سورہ الکوثر سورہ الکھف علامہ اقبال علم کچھ دل سے 9نومبر آزادی باغبانی عید مبارک فارسی اشعار، قائد اعظم قرآن کہانی معلومات یوم دفاع آبِ حیات جنت خطبہ حجتہ الوداع خطبہ مسجد الحرام رومی، زیارات مکہ سورۃ الناس شکریہ قربانی محمد، محمد، سوشل میڈیا، نیا سال، 2017 پیغام اقبال یوم پاکستان 11-12-13 16December2014 APS اردو محاورہ جات بارش تقدیر جنت کے پتے حج 2016 حیا، ذرا مسکرائیے سورج گرہن 2015 سورہ العلق، سورہ المؤمنون سورۃ العصر سورۃ الفاتحہ، طنز و مزاح عاطف سعید عورت قرآن لیس منا ماں مسدس حالی مصحف موسیقی نمرہ احمد والد یوم خواتین، عورت
اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل