اتوار, جون 04, 2017

نیکیوں کا تحفظ .... خطبہ جمعہ مسجد نبوی


نیکیوں کا تحفظ .... خطبہ جمعہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے 07-رمضان- 1438 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان " نیکیوں کا تحفظ اور میڈیا کے لیے ہدایات" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ تھوڑے وقت میں زیادہ نیکیاں سمیٹنا بہت اعلی ہدف ہے اور ماہِ رمضان اس ہدف کی تکمیل کیلیے معاون ترین مہینہ ہے۔ 

خطبے سے منتخب اقتباس درج ذیل ہے:

مسلمانو! تم تنہا ہو یا بزم میں تقوی اختیار کرو گے تو دنیا و آخرت میں کامیاب ہو جاؤ گے۔

بہترین مقصد اور اعلی ترین ہدف یہ ہے کہ انسان نیکیوں کیلیے جد و جہد میں تاخیر مت کرے، نیکیوں کی بہاروں میں ڈھیروں نیکیاں کمائے: 
{وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ (10) أُولَئِكَ الْمُقَرَّبُونَ} 
سبقت لے جانے والے ہی آگے بڑھنے والے ہیں [10] یہی لوگ مقرب بھی ہیں۔[الواقعہ: 10، 11]

ماہِ رمضان میں نیکیاں سمیٹنے اور ہمہ قسم کی عبادت کے ذریعے قربِ الہی کی جستجو کا موقع ہوتا ہے، رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث میں ہے کہ: (جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے روزہ رکھے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں) اور اسی طرح یہ بھی حدیث ہے کہ: (جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے قیام کرے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں) ان دونوں حدیثوں کے صحیح ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔

اس زندگی میں وہی شخص کامیاب ہے جو خود ممنوعہ امور دور رہے اور اپنی زندگی گناہوں سے میلی نہ کرے۔

دوسری جانب یہ انتہائی خسارے اور گھاٹے کی بات ہے کہ مسلمان پہلے نیکیوں کے حصول میں خوب تگ و دو کرے لیکن جلد ہی اپنی محنت پر پانی بھی پھیر دے اور کیا کرایا غارت کر دے!!

حقیقی مفلسی بھی یہی ہے کہ انسان اپنی نیکیاں حقوق العباد کی ادائیگی میں کوتاہی کے عوض دوسروں کو دے دے، اُس کی نیکیاں کسی بھی نوعیت کے ظلم کے عوض میں مظلوم کو دے دی جائیں، یا کسی بھی اذیت کے بدلے میں اور زیادتی کے عوض دوسروں میں بانٹ دی جائیں، حالانکہ رب العالمین نے ان تمام گناہوں کو حرام قرار دیا اور ہمارے نبی ﷺ نے ان سے خبردار فرمایا ہے۔

ایک بار آپ ﷺ نے صحابہ کرام سے بات چیت کرتے ہوئے پوچھا: (کیا جانتے ہو مفلس کون ہے؟) صحابہ نے عرض کیا: ہمارے ہاں وہ شخص مفلس ہے جس کے پاس دولت اور ضروریات زندگی نہ ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: (میری امت میں وہ شخص مفلس ہے جو قیامت کے دن نمازیں، روزے اور زکاۃ لے کر آئے گا، اور [ساتھ میں]اس نے کسی کو گالی دی ہو گی، کسی پر تہمت لگائی ہو گی، کسی کا مال ہڑپ کیا ہو گا، کسی کا خون بہایا ہو گا، کسی کو مارا ہو گا، تو ان میں سے ہر ایک کو اس کی نیکیاں دی دے جائیں گی، پھر جب اس کی نیکیاں بھی ختم ہو جائیں گی اور ابھی حساب باقی ہو گا تو دوسروں کے گناہ اس پر ڈال دئیے جائیں گے اور پھر اِسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا) مسلم

امام نووی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں: " حقیقی مفلس وہی ہے جو مکمل طور پر تباہ و برباد ہو گا جس کی تباہی یقینی ہو گی، چنانچہ اس کی نیکیاں لے کر مدعیوں میں تقسیم کر دی جائیں گی اور جب اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو مدعیوں کے گناہوں کو لیکر اس پر ڈال دیا جائے گا اور پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا، اس طرح حقیقی مفلس کی تباہی، بربادی، اور ہلاکت ہو گی۔"

روزے دار جب ایک ایسی بہار میں ہو جس میں مومنین بڑھ چڑھ کر نیکیاں کرتے ہیں، تو ہر روزے دار کی ذمہ داری ہے کہ روزوں کی حقیقت یعنی خلوت و جلوت ہر حالت میں تقوی اپنانے کی تربیت حاصل کرے۔

اس لیے مسلمانو! اپنی نیکیوں کا تحفظ یقینی بنائیں، اپنی عبادات کے ارد گرد حفاظتی باڑ کی دیکھ بھال کرتے رہیں، اس کیلیے سر توڑ کوشش کریں؛ وگرنہ آپ کی نیکیاں کسی اور کو دے دی جائیں گی اور یہ بہت بڑا گھاٹے کا سودا ہے ۔

منبرِ رسول اللہ ﷺ سے ہم تمام میڈیا ہاؤسز اور ذرائع ابلاغ کے لکھاریوں کو یہ پیغام پہنچانا چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے بارے میں اللہ تعالی سے ڈریں، دین اسلام کے متعلق اللہ تعالی سے ڈریں، مسلمانوں کی آنے والی نسلوں کے متعلق اللہ کا خوف کھائیں کہ وہ اس فانی دینا کیلیے کسی بھی ایسی چیز کے نشر کرنے سے گریز کریں جو دین سے متصادم یا دین کے روشن چہرے کو مسخ کرنے کا سبب بننے ، کوئی ایسی بات نشر مت کریں جو مسلمہ شرعی اقدار میں شک کا باعث بنے، یا رذیل اور گھٹیا حرکتوں میں ملوث ہونے کا ذریعہ بنے؛ کیونکہ یہ سنگین اور انتہائی قبیح حرکت ہو گی۔

شرعی مسلمہ اصولوں میں یہ بھی شامل ہے کہ جو شخص لوگوں کے برائی میں ملوث ہونے کا باعث بنے گا تو اس پر گناہ میں ملوث ہونے والوں کے برابر گناہ ہو گا، جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے: 
{وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالًا مَعَ أَثْقَالِهِمْ}
 اور وہ لازمی طور پر اپنا بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اپنے بوجھ کے ساتھ مزید بوجھ بھی اٹھائیں گے۔[العنكبوت: 13]

اللہ تعالی امام شاطبی پر رحمتیں برسائے کہ انہوں نے بڑی بہترین گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے کہ : "خوش نصیب ہے وہ شخص جس کے مرنے کے ساتھ ہی اس کے گناہ بھی مر جاتے ہیں، جبکہ اس شخص کیلیے تباہی اور بربادی ہے جو خود تو مر جائے لیکن اس کے گناہ سینکڑوں برس زندہ رہیں، ان گناہوں کی وجہ سے اسے قبر میں عذاب ملتا رہے گا اور ان کے ختم ہونے تک پوچھ گچھ جاری رہے گی!!"

تو ایسی باتیں میڈیا پر نشر کرنے کا کیا فائدہ !؟ کہ کچھ مسلمان میڈیا پر اللہ تعالی، قرآن کریم اور سنت رسول سے متصادم چیزوں کو پھیلانے میں مگن ہیں، اور لوگوں کو برائیوں کی دلدل میں پھنسا رہے ہیں، اللہ تعالی ہم سب کو اپنی پناہ میں رکھے۔ [آمین]



تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں