دنیا کا دھوکہ



یہ دنیا دھوکے میں کیسے ڈالتی ہے عائشے؟"

وہ اب بالکل بھی اسے نہیں دیکھ رہی تھی۔ وہ الاؤ کو دیکھ رہی تھی جس سے سرخ دانے اڑ اڑ کر فضا میں تحلیل ہو رہے تھے۔
"جب یہ اپنی چمکنے والی چیزوں میں اتنا گم کر لیتی ہے کہ اللہ بھول جاتا ہے۔"
"کیا مجھے بھی دنیا نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے؟"
"پہلی دفعہ دھوکا انسان بھولپن میں کھاتا ہے مگر بار بار کھائے تو وہ اس کا گناہ بن جاتا ہے۔ اور اگر احساس ہونے کے بعد کھائے تو اسے ایک بری یاد سمجھ کو بھول جانا چاہیے اور زندگی نئے سرے سے شروع کرنا چاہیے۔"
"نئے سرے سے؟ ایسے یوٹرن لینا آسان ہوتا ہے کیا؟ انسان کا دل چاہتا ہے کہ وہ خوب صورت لگے‘ خوب صورت لباس پہنے‘ کیا یہ بری بات ہے؟" اس کی آواز میں بے بسی در آئی تھی‘ جیسے وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ کیا غلط تھا کیا صحیح‘ سب گڈمڈ ہو رہا تھا۔
"نہیں! اللہ خوب صورت ہے اور خوب صورتی کو پسند کرتا ہے۔ یہ چیزیں زندگی کا حصہ ہونی چاہئیں۔ مگر ان کو آپ کی پوری زندگی نہیں بننا چاہیے۔ انسان کو ان چیزوں سے اوپر ہونا چاہیے۔ کچھ لوگ میری طرح ہوتے ہیں جن کی زندگی لکڑی کے کھلونے بنانے‘ مچھلی پکڑنے اور سچے موتی چننے تک محدود ہوتی ہے اور کچھ لوگ بڑے مقاصد لے کر جیتے ہیں۔ پھر وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو لے کر پریشان نہیں ہوتے۔"
حیا نے غیر ارادی طور پہ ایک نگاہ اپنے کندھے پہ ڈالی جہاں آسیتن کے نیچے Who لکھا تھا۔
"اور جن کی زندگی میں بڑا مقصد نہ ہو‘ وہ کیا کریں؟
"وہی جو میں کرتی ہوں۔ عبادت! ہم عبادت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں‘ سو ہمیں اپنے ہر کام کو عبادت بنا لینا چاہیے۔ عبادت صرف روزہ‘ نوافل اور تسبیح کا نام نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر انسان کا ٹیلنٹ بھی اس کی عبادت بن سکتا ہے میں بہارے کے لیے بھولوں کے ہار اور آنے کے لیے کھانا بناتی ہوں۔ میری یہ صلہ رحمی میری عبادت ہے۔ میں پزل باکسز اور موتیوں کے ہار بیچتی ہوں‘ میرا یہ رزق تلاشنا میری عبادت ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے کام کرتے کرتے انسان بڑے بڑے مقاصد پا لیتا ہے۔"

جنت کے پتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔از نمرہ احمد

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں