مالکِ کُل، خدائے ہست و بود


مالکِ کُل، خدائے ہست و بود
مظہر عالمِ وجود و شہود

ہر تخیل سے ماورا ہے تو
ہر تخیل میں ہے مگر موجود

مالکِ کل، خدائے ہست و بود

تیرا ادراک غیر ممکن ہے
عقل محدود، تو ہے لا محدود

مالکِ کُل، خدائے ہست و بود

فرض ہے تیری بندگی سب پر
ہے حقیقت میں اک تو ہی معبود

مالکِ کُل، خدائے ہست و بود

ہے یہ اعجاز تیری قدرت کا
ہر جگہ ہے ، کہیں نہیں موجود

مالکِ کُل، خدائے ہست و بود
مظہر عالمِ وجود و شہود

تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے

زیادہ دیکھی گئی تحاریر

ہم خوشحال زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟

دوستی ۔۔۔ میری ایک شعری کاوش

سورہ کہف بمعہ ترجمہ

آٹھ مصیبتیں

دربار میں حاضر ہے ۔۔۔ اک بندۂ آوارہ

زمرہ جات

اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل