مالکِ کُل، خدائے ہست و بود

  • جولائی 12, 2017
  • By سیما آفتاب
  • 0 Comments


مالکِ کُل، خدائے ہست و بود
مظہر عالمِ وجود و شہود

ہر تخیل سے ماورا ہے تو
ہر تخیل میں ہے مگر موجود

مالکِ کل، خدائے ہست و بود

تیرا ادراک غیر ممکن ہے
عقل محدود، تو ہے لا محدود

مالکِ کُل، خدائے ہست و بود

فرض ہے تیری بندگی سب پر
ہے حقیقت میں اک تو ہی معبود

مالکِ کُل، خدائے ہست و بود

ہے یہ اعجاز تیری قدرت کا
ہر جگہ ہے ، کہیں نہیں موجود

مالکِ کُل، خدائے ہست و بود
مظہر عالمِ وجود و شہود

تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

0 comments