تدبرِ قرآن- سورہ بقرۃ (استاد نعمان علی خان) حصہ 14

تدبرِ قرآن سورہ البقرہ- حصہ 14

ﻭَﺇِﺫَا ﻗِﻴﻞَ ﻟَﻬُﻢْ ءَاﻣِﻨُﻮا۟ ﻛَﻤَﺎٓ ءَاﻣَﻦَ ٱﻟﻨَّﺎﺱُ ﻗَﺎﻟُﻮٓا۟ ﺃَﻧُﺆْﻣِﻦُ ﻛَﻤَﺎٓ ءَاﻣَﻦَ ٱﻟﺴُّﻔَﻬَﺎٓءُ ۗ ﺃَﻻَٓ ﺇِﻧَّﻬُﻢْ ﻫُﻢُ ٱﻟﺴُّﻔَﻬَﺎٓءُ ﻭَﻟَٰﻜِﻦ ﻻَّ ﻳَﻌْﻠَﻤُﻮﻥ.  (البقرہ 13)
. اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جس طرح اور لوگ ایمان لے آئے، تم بھی ایمان لے آؤ تو کہتے ہیں، بھلا جس طرح بےوقوف ایمان لے آئے ہیں اسی طرح ہم بھی ایمان لے آئیں؟ سن لو کہ یہی بےوقوف ہیں لیکن نہیں جانتے.

اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکتُہُ..
آج میرا ارادہ بارہویں آیت سے آگے جاری رکھنے کا ہے.  ہم نے بارہویں آیت میں دیکھا منافقین کو پہلی بار مخاطب کیا گیا.  اور ان کو زمین میں فساد نا کرنے کا حکم دیا گیا.
آگے جانے سے پہلے میں دو باتیں بتانا چاہتا ہوں آپکو. قرآن میں جب ﺃَﻻَٓ لفظ کا استعمال کیا گیا ہے،  جیسے اَلا انھم ھم السفھا...
ان الفاظ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ الفاظ ایک ذریعہ ہوتے ہیں آپ کی توجہ حاصل کرنے کا.
اب ایک مومن تو اللہ کی کہی ہر بات کو توجہ سے سنے گا. کیونکہ اللہ ہمارے قرآن کے استاد ہیں، تو کچھ مواقع ایسے ہوتے ہیں جہاں بحیثیت استاد آپکو سوچنا پڑتا ہے کہ یہ بات سمجھانے کے لیے طلباء کو خاص طور پر متوجہ ہونا ہے،  سو آپکو کچھ ایسا کرنا پڑتا ہے جس سے طلبا مزید چوکس ہو کر آپکو سنیں. تو ایسے موقع پر اللہ استعمال کرتے ہیں الا انھم ھم السفھا... کہ جان لو وہ ہی..  ہاں وہ ہی ہیں بیوقوف
اب اصلاح کے نام پر کچھ ایسی باتیں کرنا معاشرے کے لیے زہر کا کام کرتی ہیں. تو اللہ ہمیں ایسی باتوں سے اور ایسی باتیں کرنے والوں کے بارے میں تنبیہ کرتے ہیں تو اس لفظ کا استعمال کرتے ہیں کہ اس قسم کی باتوں میں نہ آنا.  ایسی باتیں  جو کمپرومائز، ثالثی کردار یا امن قائم کرنے کے نام پر حق و باطل کو ملانے کی کوشش میں کی جائیں.  ہاں امن قائم کرنے کے لیے ثالثی کردار یا کمپرومائز کی جگہ ہے دین میں لیکن کچھ باتیں ایسی ہیں جن میں کوئی کمپرومائز نہیں. جو حق ہے وہ حق ہے.  اسکو کسی بحث کے زریعے بدلا نہیں جا سکتا. جب عبادت کا ذکر آئے تو یہ کرنی ہی کرنی ہے، اس میں کوئی کمپرومائز نہیں.
سو ایسے معاملوں میں اللہ ﺃَﻻَٓ کا لفظ استعمال کرکے بات کررہے ہیں. 
دوسری بات جو میں کل نہیں بتا سکا تھا کہ اللہ نے پہلے 'اِنّا' کا لفظ استعمال کیا ہے اور یہ تب استعمال کیا جاتا ہے جب یقین دلایا جانا مقصود ہو. شک مٹانا مقصود ہو.  تو جب ایک آیت اس لفظ سے شروع ہو تو مقصد ہوتا ہے خبردار کرنا...  کہ آگے جو میں کہنے جارہا ہوں اس میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں ہے. 
اس کے علاوہ اس آیت میں اللہ نے 'ھُم' دو بار استعمال کیا ہے. جسکا مطلب ہے 'وہ'. یعنی وہ ہاں وہی ہیں جو فساد پیدا کرتے ہیں.
اور پھر المفسدون.. عربی میں جملہ کے دوسرے حصے میں ال کا استعمال جملے پر زور دینے کے لیے. استعمال کیا جاتا ہے.
اب آپ دیکھیں. 'اِنَّا' کا استعمال، پھر 'ﺃَﻻَٓ' پھر دو بار 'ھُم' اور پھر 'اَل'...
یہ سب اس بات پر زور دینے کے لیے ہے کہ یہ لوگ فسادی ہیں.
یہی وجہ ہے کہ اللہ نے عربی زبان کا انتخاب کیا قرآن کے لیے. کہ یہ بہت گہری زبان ہے.  کچھ الفاظ کے زریعے صرف الفاظ نہیں بلکہ جذبات بھی بیان کیے جاتے ہیں.

 جیسے کہ انگریزی میں مثال کے طور پر اگر میں آپ سے کہوں"آپ کو دیکھ کر اچھا لگا" اور میں اسے آپ کو لکھ کر بتاؤں کہ آج آپ کو دیکھ کر اچھا لگا تو آپ ان الفاظ سے میرے اصل جذبات نہیں سمجھ سکیں گے. ہو سکتا ہے میں نے ایسا طنزیہ طور پر کہا ہو یا یہ ایک عمومی تاثر ہی ہو یا بہت ہی جذباتی ہو کر بھی کہہ دیا ہو. جذبات الفاظ کو مکمل طور پر بیان نہیں کرتے اکثر اوقات تو الفاظ کا مطلب ہی اور ہوتا ہے. بہت بار ایسا ہوتا ہے کہ آپ کسی کو کوئی پیغام بھیجیں یا ای میل کریں یا خط ہی لکھیں تو اکثر جذبات الجھا تاثر بھی دیتے ہیں. جیسے آپ کا "ٹھیک ہے" کہنے سے کیا مقصد تھا؟ کیا ایسا خوشی سے کہا تھا؟ یا بیزاری سے کہا تھا؟ یا غصہ سے کہا تھا؟ آخر کہنا کیا چاہتے تھے؟

قرآن کی زبان خاص طور پر قدیم عربی زبان ایسی ہے کہ نہ صرف الفاظ میں مطلوبہ معنی کو گرفت کیا جاتا ہے بلکہ بیان بازی جو کہ عربی زبان کا حصہ ہے، اراداتاً مطلوبہ جذبات کو بھی بیان کیا جاتا ہے جیسے کہ جب غصہ دکھانا مقصود ہو، جتنی شدت کا اظہار کرنا مقصود ہو یہاں تک کہ علامات استعجابات کو بھی ایک ہی جگہ پر اکٹھا کر دیا جاتا ہے. یہ حیرت انگیز ہے. اس لیےقرآن کے حفاظ خواہ وہ بچے، بوڑھے، جوان، مرد یا عورت کوئی بھی ہو ان کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ وہ عربی زبان کو بھی سیکھیں. آج کل مسلم امہ تہذیب میں قرآن کو حفظ کرنا بہت عام ہو چکا ہے اور الحمد لله ہم اس کام میں اچھے بھی ہیں. ہمارے بچے ڈیڑھ' دو یا تین سال میں مکمل قرآن حفظ کر لیتے ہیں مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ قرآن پاک کے الفاظ تو یاد کر لیتے ہیں، تجوید بھی یاد کر لیتے ہیں مگر قرآن پاک کے جذبات کو نہیں سمجھتے.
 الفاظ کو سمجھنے سے قاری کی تلاوت پر بھی اثر پڑتا ہے جو بھی وہ تلاوت کر رہا ہو. اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس بات پر دھیان دیں کہ حفاظ جو یاد کر رہے ہیں اسے سمجھیں بھی. یہ ہمارے بچوں کا قصور نہیں ہے کہ وہ عربی زبان نہیں جانتے بلکہ ان والدین کی ذمہ داری ہے جو اپنے بچوں کو قرآن حفظ کرواتے ہیں کہ اپنے بچوں کو عربی زبان بھی سکھائیں تاکہ بچے قرآن کو سمجھ بھی سکیں. کیونکہ قرآن پاک حفظ کروانے کا اصل مقصد ہی یہ ہے کہ لوگ اس سے فیض یاب ہو سکیں خاص طور پر اپنی نمازوں میں دہرا سکیں. 
بہرحال یہ کلمہ أَلَا کے بارے میں پہلی نمایاں بات تھی اور بیان بازی کے جو آلات اس میں استعمال ہوئے ہیں ان کے بارے میں بیان تھا.
دوسری نمایاں بات اس آیت میں فاسد اور مفسد میں فرق کی ہے. عربی زبان میں لفظ فاسد کا مطلب ایک بدعمل، بداخلاق انسان ہے. اور مفسد اس صفت کی زیادتی ہے. جس کا مطلب ہے کہ ایسا انسان جو نہ صرف خود بدعمل ہو بلکہ دوسروں کو بھی بگاڑنے والا ہو. یعنی یسببون الفساد فی الآخرین. وہ دوسروں میں فساد پیدا کرتے ہیں.
جیسے آپ اگر بات کریں ایک انسان کی، جو کہے کہ ہمیں مصالحتی رویہ اپنانا چاہیے ایسا انسان جب دوسروں کے ساتھ بیٹھے گا تو کہے گا کہ "جانے مسلمان اپنے عقیدہ میں اتنے سخت کیوں ہیں؟ وہ آخر تھوڑی بہت مصالحت اختیار کیوں نہیں کر لیتے ؟" ایسے لوگ دوسرے کمزور عقیدہ کے مسلمانوں کی جڑیں کمزور کر رہے ہوتے ہیں اور وہ مسلمان اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات میں پڑ جاتے ہیں تو ایسے دماغ کے لوگ ہی فساد پھیلانے والے ہیں.
مسلم امہ میں رہتے ہوئے بھی جب مسلمان اسلام پر درست عمل نہیں کرتے تو اول تو ان کا عقیدہ کمزور ہوتا ہے دوسرے وہ یہ کمزوری اپنے خاندان اور دوستوں میں پھیلا دیتے ہیں وہ صرف فاسد نہیں رہتے مفسد بن جاتے ہیں.
أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَـٰكِن لَّا يَشْعُرُونَ ﴿١٢﴾
اور انہیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ کیا کر رہے ہیں.

اگلی آیت میں بہت خوبصورتی سے کہا جا رہا ہے
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ
جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ جیسے اور لوگ ایمان لائے (یہ اس آیت کے پہلے حصے کا سرسری ترجمہ ہے).
اس بات کا کیا مطلب ہوا؟ اصل میں یہاں  کلمہ قِیلَ میں بتایا جا رہا ہے کہ ایسا کہا جا چکا.
دوسرے الفاظ میں منافقین نے اپنے منافقانہ رویے دکھانا شروع کر دیے تھے اور بڑھ چڑھ کر رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو متاثر کرنا چاہتے تھے. ان کے ماتھوں پر منافق لکھا نہیں ہوا تھا اور وہ دوسرے مسلمانوں کی طرح ہی سب کے ساتھ ہوتے تھے. وہ مسلمان جو منافق نہیں تھے وہ پریشان ہوتے تھے اور انہیں نصیحت کرتے تھے کہ "آپ ٹھیک نہیں کر رہے. کیا میں آپ سے اکیلے میں بات کر سکتا ہوں؟" اور وہ انہیں علیحدگی میں لے جاتے تھے اور انہیں نصیحت کرنے کی کوشش کرتے. تو لفظ قِیلَ میں یہ صورتحال بیان کی جا رہی ہے. یعنی جب ان سے علیحدگی میں کچھ کہا جاتا ہے.
 اَمِنُوا آپ کو ایمان لے آنا چاہیے.
اب سوچنے کی بات یہ ہے کیا انہوں نے کہا نہیں تھا کہ
آمَنَّا بِاللَّـهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِر کہ ہم ایمان لے آئے. اب ان کے دوست آ کر انہیں کہہ رہے ہیں کہ آپ کو واقعی میں ایمان لے آنا چاہیے کیونکہ وہ ان منافقین کو اچھی طرح جانتے ہیں.
میں آپ کو متعدد بار یہ سمجھا چکا ہوں کہ آپ کسی کے ایمان کا اندازہ نہیں لگا سکتے. اب آپ یہ سوچتے ہوں گے کہ ایمان دل کے اندر ہوتا ہے تو پھر ان لوگوں کے دوست یا دوسرے مسلمان انہیں کیوں سمجھاتے تھے کہ آپ کو ایمان لے آنا چاہیے؟ اصل میں جب ایمان آپ کے دل میں ہو تو وہ آپ کے عمل میں بھی نظر آتا ہے.

-نعمان علی خان

جاری ہے......

تبصرے

زیادہ دیکھی گئی تحاریر

استقبالِ رمضان -17

ماہ رمضان نیکیوں کی بہار – مقتبس خطبہ جمعہ مسجد نبوی

خوش ترین زندگى، زندگى با قناعت است

استقبالِ رمضان-16

زمرہ جات

اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل