میرا ایمان ہے، ہے وہ مردہ ضمیر

  • مارچ 23, 2016
  • By سیما آفتاب
  • 0 Comments


تیری ہستی سے ہستی ہماری وطن
جان واری یہ تجھ پر ہماری وطن
میرا ایمان ہے، ہے وہ مردہ ضمیر
عشق سے تیرے جو بھی ہے عاری وطن 


خون دے کر بزرگوں نے ہم پہ کیا
تیری صورت یہ احسان بھاری وطن
کر سکیں گے نہ وہ بال بیکا تیرا
ملت کفر مل جائے ساری وطن
تیرا دشمن نہ بھولے جو نسلوں تلک
ضرب دیں گے اسے وہ قہاری وطن
ہے  تاریخ شاہد، دشمنوں کی تیرے
بار ہا ہم نے گردن اتاری وطن
تو ہے 'امتیاز' کے ہر تخیل کی جاں
تیرے نغموں کا میں ہوں لکھاری وطن
شاعر: امتیاز عالم

0 comments