جمعہ, جولائی 24, 2015

توبہ قبول ہو، میری توبہ قبول ہو



یا رب میں گناہگار ہوں، توبہ قبول ہو
عصیاں پہ شرمسار ہوں، توبہ قبول ہو
جاں سوز و دل فگار ہوں، توبہ قبول ہو
سر تا پا انکسار ہوں، توبہ قبول ہو
توبہ قبول ہو، میری توبہ قبول ہو

گزری تمام عمر میری لہو لعب میں
نیکی نہیں ہے کوئی عمل کی کتاب میں
صالح عمل بھی کوئی نہیں ہے حساب میں
دستِ دعا بلند ہے تیری جناب میں
توبہ قبول ہو، میری توبہ قبول ہو

عیش و نشاط ہی میں گزاری ہے زندگی
ہر زاویئے سے اپنی سنواری ہے زندگی
میرا خیال یہ تھا کہ جاری ہے زندگی
لیکن یہ حال اب ہے کہ بھاری ہے زندگی
توبہ قبول ہو، میری توبہ قبول ہو

تیرے کرم کو، تیری عطا کو بھلا دیا
اعمال کی جزا و سزا کو بھلا دیا
طاقت ملی تو کرب و بلا کو بھلا دیا
ہر ناتواں کی آہِ رساں کو بھلا دیا
توبہ قبول ہو، میری توبہ قبول ہو

میں تو سمجھ رہا تھا کہ دولت ہے جس کے پاس
اس کو نہ کوئی خوف ہے، اس کو نہ کوئی ہراس
ہوگا نہ زندگی میں کسی وقت وہ اداس
لیکن یہ میری بھول تھی، اب میں ہوں محو یاس
توبہ قبول ہو، میری توبہ قبول ہو

میں ہوں گناہگار مگر، تو تو ہے کریم
میں ہو سیاہ کار مگر، تو تو ہے رحیم
میں ہوں فنا پذیر مگر، تو تو ہے قدیم
میں ادنیٰ و حقیر سہی، تو تو ہے عظیم
توبہ قبول ہو، میری توبہ قبول ہو

یا رب تیرے کرم، تیری رحمت کا واسطہ
یا رب تیری عطا، تیری نعمت کا واسطہ
یا رب تیرے جلال و جلالت کا واسطہ
یارب رسولِ حق کی رسالت کا واسطہ
توبہ قبول ہو، میری توبہ قبول ہو

میں اعتراف کرتا ہوں اپنے قصور کا
میں ہو گیا تھا ایسے گناہوں میں مبتلا
جن کی ہے آخرت میں کڑی سے کڑی سزا
لیکن مجھے تو تیرے کرم سے ہے آسرا
توبہ قبول ہو، میری توبہ قبول ہو

اب تیری بندگی میں بسر ہوگی زندگی
موڑوں گا منہ نہ تیری عبادت سے اب کبھی
اب اتباع کروں گا میں تیرے رسول ﷺ کی
تازندگی کروں گا شریعت کی پیروی
توبہ قبول ہو، میری توبہ قبول ہو

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں