جمعہ, جون 03, 2016

مغفرت کا مہینہ (استاد نعمان علی خان) حصہ چہارم


تصور کریں کہ میں ایک ادارے کا سربراہ ہوں، اور میرے ادارے میں 60 طالب علم ہیں. میں انہیں پانچ گھنٹے پڑھاتا ہوں، پڑھانے کے بعد میں تھک جاتا ہوں. اب ایک طالب مجھے آ کر کہتا ہے کہ "استاد، کیا آپ کے پانچ منٹ مل سکتے ہیں؟"
میں کہتا ہوں، ٹھیک ہے!
اس کے بعد ایک اور طالب آتا ہے اور وہ بھی یہی کہتا ہے.. اور اس کے بعد تیسرا طالب آجاتا ہے..اس طرح چلتا رہتا ہے.. حتٰی کے تمام طلبہ کو مجھے الگ سے پانچ منٹ دینے پڑجاتے ہیں. کتنا وقت لگ گیا مجھے؟ "پانچ گھنٹے"
مگر سب طلبہ کہیں گے کہ ہمیں تو پانچ منٹ ہی ملے تھے!
ایک اور مثال:
اگر ہمیں کسی اسپیشلسٹ، کے پاس جانا ہو تو ہم اپانئنٹمنٹ لیتے ہیں. اور اگر میں اپائنٹمنٹ کے روز پانچ منٹ بھی تاخیر سے پہنچوں تو مجھے دوبارہ سے کچھ دن بعد کی اپانئنٹمنٹ لینا پڑتی ہے کیونکہ وہ پہلے ہی مصروف ہوتا ہے. خاص لوگوں سے ملاقات ان کے اوقات کے مطابق کی جاتی ہے، آپ اپنی مرضی سے نہیں جا سکتے.
ایک آخری مثال:
ایک بزنس کا مالک ہے، اس کے آفس میں ڈھیروں ورکرز (کام کرنے والے) ہونگے. مگر کیا وہ سب کو جانتا ہے؟ نہیں!
کیا سب اس سے آسانی سے رابطہ کر سکتے ہیں؟ نہیں!
اگر سب مالک کو درخواست بھیجیں، تو کیا مالک ان کی سنے گا؟ کیا وہ گارڈ، کی بات سنے گا جا کر؟
ظاہر ہے نہیں!
اب اس آیت کو سمجھیں:
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ
اور جب پوچھیں تم سے (اے محمد) میرے بندے میرے بارے میں تو بے شک میں قریب ہوں.
أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ
جواب دیتا ہوں میں پکارنے والے کی پکار کا، جب پکارتا ہے وہ مجھے 

اللہ آپ کو انتظار نہیں کروائیں گے، آپ کو ملاقات کی ڈیڈلائن نہیں دی جائے گی. بلکہ "میں جواب دونگا تم جب بھی مجھے پکاروگے"

ایک انسان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے، اگر میری اولاد میرے پاس بیٹھی ہے اور وہ سب ایک ہی وقت میں مجھ سے گفتگو میں مصروف ہیں تو کیا میں ایک ہی ساتھ ان کو جواب دے سکتا ہوں؟
نہیں!
میں ایک وقت میں ایک ہی کو سن سکتا ہوں.
اللہ رب العزت اپنے رسول صل اللہ علیہ والہ وسلم سے فرماتے ہیں " جب پوچھیں تم سے (اے محمد) میرے بندے میرے بارے میں (کہہ دو ان سے) میں قریب ہوں.
اور میں انہیں جواب دونگا وہ جب بھی مجھے پکاریں گے.
اس دعا کے متعلق بتانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ یہ رمضان آپ زیادہ سے دیازہ قرآن پڑھیں اور دعا مانگیں.
.................................................
جب کبھی بھی آپ کو حلال کمانے کا موقع ملتا ہے، اور دوسری طرف اس (حلال سے) سے زیادہ (مگر حرام) کمانے کا موقع ملتا ہے اور اس لمحے آپ خود کو یاد دہانی کرواتے ہیں کہ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ آپ اللہ کی بڑائی بولتے ہیں..
"اللہ اس مال سے بڑا ہے" اس لیے میں حرام طرف نہیں جاونگا.
جب کبھی آپ سورہے ہوتے ہیں اور فجر کی آذان کی آواز آتی ہے، اور شیطان آپ کو اٹھنے نہیں دے رہا ہوتا، مگر اس لمحے آپ خود کو یاد کرواتے ہیں کہ "اللہ سب سے بڑا ہے" میری نیند سے بڑا ہے.. میری نیند سے زیادہ خاص ہے..تب آپ اللہ کو اپنی خواہشات پر ترجیح دیتے ہیں.
اور یہی ٹریننگ آپ نے رمضان میں کرنی ہے، اللہ کو ترجیح دینی ہے .
اور یہ کیوں کرنا ہے؟
وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
تاکہ تم شکرگزار بن جاو..

اب سوال اٹھتا ہے کہ کس چیز پر شکرگزار بنا جائے؟
آیت کا آغاز ہوا تھا 
" شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ" 
سو جس پہلی نعمت کا ہمیں شکرگزار ہونا چاہیے وہ "قرآن" ہے....
اگر میں آپ کے گھر آتا ہوں اور آپ کو کوئی تحفہ دیتا ہوں، آپ اس تحفے کی تعریف کرتے ہیں اور پھر پھینک دیتے ہیں، وہ بھی میرے سامنے.
یا پھر میں آپ کو کوئی کتاب تحفے میں دیتا ہوں تاکہ آپ اسے پڑھیں مگر آپ اسے غلاف میں رکھ کر گھر کے کسی کونے میں رکھ دیتے ہیں. تو کیا مجھے اچھا لگے گا؟ ظاہر ہے نہیں! کیونکہ میں نے تو وہ کتاب آپ کو دی تھی تاکہ آپ اسے پڑھیں. اور بجائے اس کے کہ آپ شکرگزار بنتے آپ نے اسے پڑھے بغیر اسے کونے میں رکھ دیا، یعنی اس کی قدر نہیں کی.
اللہ نے بھی فرمایا، تاکہ تم شکرگزار بن سکو. یعنی،آپ قرآن کی قدر کریں.
رمضان کے اختتام پر آپ کا قرآن سے نیا تعلق قائم ہونا چاہیے،رمضان کے بعد بھی آپ اس کے متعلق اور جاننا چاہیں، اس کی تلاوت کرنا چاہیں..اسے بھول نہ جائیں..
اللہ رب العزت نے ہمیں خود سے بات کرنے کا ڈائریکٹ لنک عطا کیا ہے، اور کسی مذہب میں یہ سہولت نہیں ہے.ہم نماز کے دوران اللہ سے ڈائریکٹ بات کر رہے ہوتے ہیں. صلاہ کا معنی ہی "لنک/کنکشن" کا ہے. اور اللہ کے لفظ، جن کی ہم تلاوت کرتے ہیں وہ ہمیں اللہ سے جوڑتے ہیں.
جتنا زیادہ آپ قرآن سے جڑے رہیں گے اتنا ہی زیادہ آپ کا اللہ سے تعلق بڑھے گا.
جتنا زیادہ آپ قرآن سے منقطع رہیں گے اتنا ہی منقطع آپ اللہ سے ہوتے جائیں گے.
آپ کا اور میرا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہم نے اس کتاب سے رابطہ قائم رکھنا ہے، اس کے نزدیک ہونا ہے، دور نہیں.
اور کوئی بھی کبھی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ قرآن کے بہت قریب ہے، کیونکہ یہ وہ سمندر ہے جس کا کوئی اختتام نہیں. آپ قرآن کو جتنا سیکھیں گے، آپ پر انکشاف ہوگا کہ آپ اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے.

جاری ہے۔۔۔ 

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں