دنیا میں انسان کے تین بڑے دشمن - خطبہ جمعہ مسجد نبوی (اقتباس)

دنیا میں انسان کے تین بڑے دشمن 
 خطبہ جمعہ مسجد نبوی
امام و خطیب: پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی
ترجمہ: شفقت الرحمان مغل
بشکریہ: دلیل ویب

فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے 11 -شعبان- 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "دنیا میں انسان کے تین بڑے دشمن" ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے دنیاوی اور اخروی زندگی میں مسلمانوں کے لیے وعدے جبکہ کافروں کے لیے وعیدیں بتلائی ہیں اور یہ حرف بہ حرف پوری ہوں گی۔ دنیا میں مصیبتوں کے ذریعے آزمائش قانونِ الہی ہے اس سے کھرے اور کھوٹے میں فرق معلوم ہوتا ہے۔ انسان کے دشمنوں میں انسانی نفس، شیطان اور خالص دنیا داری شامل ہیں، اگر ہم ان کے متعلق اللہ تعالی کی تعلیمات کو مد نظر رکھیں تو ان کے منفی اثرات سے بچ سکتے ہیں، جس کے لیے سب سے پہلے ان تعلیمات کا شرعی علم ہونا از بس ضروری ہے، اس کے ساتھ اللہ تعالی سے دعائیں بھی کریں۔ شیطان انسان کو گمراہ کرنے کے لیے سات طریقے اپناتا ہے، اس سے بچاؤ کے لیے اللہ کی پناہ جیسا کوئی اکسیر نہیں۔ دنیا کے شر سے بچنے کے لیے حلال و حرام میں تمیز رکھیں اور حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد بھی پابندی سے ادا کریں، آخر میں انہوں نے کہا کہ: عقلمند وہی ہے جو دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری کر لے۔

منتخب اقتباس:

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اسی کے ہاتھ میں بھلائی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، وہ سب کے اعمال کی نگرانی کر رہا ہے اور وہ سب کو اعمال کا پورا بدلہ دے گا وہ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا، اور اگر کوئی نیکی ہوئی تو وہ اسے بڑھا دیتا ہے اور اپنی طرف سے اجر عظیم عطا فرماتا ہے۔ میں اپنے رب کے فضلِ عظیم پر اسی کی تعریف اور شکر بجا لاتا ہوں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں وہی جاننے اور خبر رکھنے والا ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، آپ بشیر و نذیر اور سراج منیر ہیں، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول جناب محمد - جنہیں روشن کتاب دے کر بھیجا گیا ان  پر ، ان کی آل اور صحابہ کرام پر درود و سلام اور برکتیں نازل فرما جن کے ذریعے اللہ تعالی نے دین کو غالب فرمایا اور شرک کو ذلیل و رسوا کیا۔

مسلمانو!

بیشک اللہ تعالی نے تم سے سچا وعدہ کیا ہے، وہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا اور نہ ہی کوئی اس کے فیصلوں پر نظر ثانی کر سکتا ہے، اللہ تعالی نے اپنے فرمانبردار بندوں سے دنیا میں اچھی زندگی کا وعدہ فرمایا اور آخرت میں اچھے نتائج کا وعدہ دیا، اللہ تعالی ان پر راضی ہو گا اور انہیں سرمدی جنتوں میں دائمی نعمتوں سے نوازے گا، انہیں انبیائے کرام اور نیک لوگوں کی رفاقت بھی ملے گی، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ}
 اور اگر بستی والے ایمان لاتے اور تقوی اپناتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے ضرور کھول دیتے۔[الأعراف: 96]

ایسے ہی فرمایا: 
{وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأَدْخَلْنَاهُمْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ (65) وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ مِنْ رَبِّهِمْ لَأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ} 
اگر اہل کتاب ایمان لے آتے اور تقوی اختیار کر لیتے تو ہم ان سے ان کے گناہ زائل کر کے انہیں نعمتوں والے باغات میں داخل کرتے [65] اور اگر یہ لوگ تورات ،انجیل اور جو دوسری کتابیں ان پر انکے پروردگار کی طرف سے نازل ہوئی تھیں، ان پر عمل پیرا رہتے تو انکے اوپر سے بھی کھانے کو رزق برستا، اور پاؤں کے نیچے سے بھی ابلتا۔ [المائدة: 65، 66] 
یعنی اگر وہ قرآن پر ایمان لے آتے اور اس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ساتھ میں اپنی کتابوں پر بھی بغیر کسی تحریف کے ایمان رکھتے تو اللہ تعالی انہیں دنیا میں خوشحال زندگی سے نوازتا اور آخرت میں ا نہیں نعمتوں والی جنت میں داخل فرماتا۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (بیشک اللہ تعالی فرماتا ہے: جو میرے کسی ولی سے دشمنی روا رکھے تو اس کے خلاف میں اعلانِ جنگ کرتا ہوں، فرائض سے بڑھ کر میرا بندہ میرا قرب حاصل نہیں کر سکتا، میرا بندہ تسلسل کے ساتھ نوافل کے ذریعے میرے قرب کی تلاش میں لگا رہتا ہے یہاں تک میں ہی اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، اور جب میں اس سے محبت کرنے لگوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اور اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، میں اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے، اور اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے ضرور دوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے تو میں اسے ضرور پناہ دے دوں، مجھے اپنے کسی بھی کام کے کرنے میں اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا مجھے موت سے ڈرنے والے مؤمن کی روح قبض کرنے میں ہوتا ہے، مجھے مؤمن کی ناگواری پسند نہیں) بخاری،
 اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ : اللہ تعالی اپنے لطف و کرم اور رحمت و قدرت کے ساتھ اپنے فرمانبردار بندوں کے امور چلاتا ہے، اور دنیا و آخرت میں ان کے لیے بہترین منصوبہ بندی فرماتا ہے۔

مومنین اپنی دنیاوی زندگی میں بھی اللہ تعالی کے وعدوں کی تکمیل کا مشاہدہ کرتے ہیں اور انہیں اللہ تعالی کی جانب سے مسلسل نعمتیں اور رحمتیں موصول ہوتی رہتی ہیں، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
 {فَآتَاهُمُ اللَّهُ ثَوَابَ الدُّنْيَا وَحُسْنَ ثَوَابِ الْآخِرَةِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ}
 تو اللہ نے انہیں دنیا میں بدلہ بھی دیا اور آخرت کا ثواب تو بہت ہی خوب ہے۔ اور ایسے ہی نیک عمل کرنے والوں کو اللہ محبوب رکھتا ہے [آل عمران: 148]

جس طرح اللہ تعالی نے اپنے فرمانبردار بندوں سے نعمتوں کا وعدہ کیا ہے بالکل اسی طرح نافرمان کافروں اور سرکش گناہگاروں کو وعید بھی سنائی ، انہیں عذاب اور عقاب سے ڈرایا، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
 {وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الْأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَهُمْ}
 اور جو کافر ہیں وہ چند روز فائدہ اٹھا لیں، وہ اس طرح کھاتے ہیں جیسے چوپائے کھاتے ہیں اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ [محمد: 12]

ان کی دنیا کی زندگی بھی بد ترین زندگی ہے، اس کے متعلق اللہ تعالی کا فرمان ہے:
{وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى}
 اور جو میری یاد سے منہ موڑے گا تو اس کی زندگی تنگ ہو جائے گی اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا کر کے اٹھائیں گے۔ [طہ: 124] 
اور اگر انہیں دنیا مل بھی جائے تو بھی وہ بد ترین زندگی میں ہوتے ہیں۔

اسی طرح اللہ تعالی نے یہ بھی فرمایا:
 {فَلَا تُعْجِبْكَ أَمْوَالُهُمْ وَلَا أَوْلَادُهُمْ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كَافِرُونَ}
 ان لوگوں کے مال اور اولاد آپ کو تعجب میں نہ ڈالیں۔ اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ انہی چیزوں کے ذریعہ انہیں دنیا کی زندگی میں سزا دے اور جب ان کی جان نکلے تو اس وقت یہ کافر ہی ہوں [التوبہ: 55]

اور یہ ممکن ہے کہ انسان کسی ایسی آزمائش میں پھنس جائے جو انسان کو مفید چیزوں سے موڑ کر نقصان دہ چیزوں میں مبتلا کر دے، آزمائش اور امتحان کے طور پر اسے نیکیوں سے موڑے، گناہوں کو خوبصورت بنا کر دکھائے؛ تا کہ اللہ تعالی اپنے نفس کے خلاف جہاد کرنے والوں اور نفس پرستی سے بچنے والوں کو ان لوگوں سے الگ کر دے جو نفس پرستی میں پڑ جائیں اور شیطان کے پیچھے چل پڑیں؛ تا کہ اللہ تعالی ہدایت یافتہ لوگوں کو درجات سے نوازے اور ہوس پرستوں کو کھائیوں میں گرا دے۔

اس لیے انسان کا نفس ہی انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے اور شیطان اسی کے ذریعے ہی انسان پر حملہ آور ہوتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي} 
نفس تو اکثر برائی پر اکساتا رہتا ہے مگر جس پر میرے پروردگار کی رحمت ہو۔ [يوسف: 53] ایسے ہی فرمایا: 
{إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنْفُسُ}
 وہ صرف گمان اور من چاہی چیزوں کی ہی پیروی کرتے ہیں۔[النجم: 23]

نفس جس قدر جہالت اور ظلم سے متصف ہو گا انسان اسی قدر اللہ تعالی کے وعدوں کی تصدیق سے دور ہو گا، انسان کو استقامت اور راہِ اعتدال سے منحرف کر دے گا۔

امام ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: "جو شخص اپنی حقیقت اور فطرت سے آشنا ہو جائے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ اس کا نفس ہر قسم کی برائی اور بدی کا منبع ہے، جبکہ اس میں ہر قسم کی خیر محض فضلِ الہی اور احسان کی وجہ سے ہے، اس میں نفس کا اپنا کوئی کمال نہیں۔"

شریعت کے لائے ہوئے علمِ نافع سے جہالت کا خاتمہ ہوتا ہے، مسلمان کیلیے ضروری ہے کہ ہمیشہ اللہ تعالی کی جانب راغب رہے، اپنے نفس کی اصلاح کے لیے اللہ تعالی سے دعا مانگتا رہے، چنانچہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے:
 (اَللَّهُمَّ آتِ نَفْسِيْ تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا، اَللَّهُمَّ إني أَعُوْذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَابُ لَهَا"
[ یا اللہ! میرے نفس کو تقوی عطا فرما، اور اس کا تزکیہ فرما تو ہی اس کا بہترین تزکیہ کرنے والا ہے، تو ہی تزکیہ کر سکتا ہے اور میرے نفس کا مولی ہے، یا اللہ! میں غیر مفید علم، خشوع سے عاری دل، سیر نہ ہونے والے نفس، اور مسترد ہو جانے والی دعا سے تیری پناہ چاہتا ہوں]) مسلم

اسی طرح ترمذی میں روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے والد کو دو جملے دعا کے لیے سکھائے تھے: (اَللَّهُمَّ أَلْهِمْنِيْ رُشْدِيْ وَأَعِذْنِيْ مِنْ شَرِّ نَفْسِيْ
[یا اللہ! میری رہنمائی میرے دل میں ڈال دے اور مجھے میرے نفس کے شر سے محفوظ فرما دے])

لہذا اگر نفس شرعی علم اور عمل صالح کے ذریعے پاکیزہ نہ بنے تو انسان پر جہالت اور ظلم کا راج ہوتا ہے، نفس ہوس کے ساتھ مل کر انسان سے اللہ تعالی کے وعدوں کی تکذیب کرواتا ہے، جس کی بنا پر نفس شہوت پرست بن جاتا ہے اور خسارہ، عذاب، ذلت اور رسوائی کی دلدل میں دھنس جاتا ہے، اور دونوں جہانوں میں نامراد ہوتا ہے۔

اس کے بر عکس اگر نفس کا تزکیہ ہو ، علمِ نافع اور عملِ صالح کے ذریعے نفس پاکیزہ ہو جائے تو انسان اللہ تعالی کے وعدوں کو سچا مانتا ہے اور مطمئن ہو کر اپنے پروردگار سے تعلق بناتا ہے، اسے موت کے وقت بھی عزت افزائی کی خوشخبری دی جاتی ہے، اسی کے متعلق فرمانِ باری تعالی ہے: 
{يَاأَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ (27) ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً (28) فَادْخُلِي فِي عِبَادِي (29) وَادْخُلِي جَنَّتِي}
 اے اطمینان پانے والی روح [27] اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل تو اس سے راضی، وہ تجھ سے راضی [29] میرے بندوں میں داخل ہو جا [30] اور میری جنت میں داخل ہو جا۔ [الفجر: 27 - 30]

بھلائی کے تمام راستے بند کرنے والا، برائیوں کی طرف دعوت دینے والا انسان کا ازلی دشمن - اللہ کی پناہ -شیطان مردود اور پلید ہے اللہ تعالی نے شیطان کو مکلف لوگوں کے لیے آزمائش بنایا ؛ لہذا شیطان کے پیچھے چلنے والا شخص بد ترین مقام پر ہو گا اور شیطان کی نافرمانی کرنے والا بلند ترین مقام پر فائز ہو گا۔

شیطان انسان کو گمراہ کر کے لذت اور سرور محسوس کرتا ہے، اسے اللہ تعالی کے وعدوں اور وعیدوں کو جھٹلانے کی دعوت دیتا ہے، وہ اس کے سامنے حرام چیزوں کو خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے، فرائض اور مستحبات سے روکنا شیطان کا مشغلہ ہے، وہ انسان کو سبز باغ دکھا کر دھوکا دیتا ہے اور وسوسے ڈال کر اسے گمراہ کرتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
{إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ} 
شیطان یقیناً تمہارا دشمن ہے۔ لہذا اسے دشمن ہی سمجھو۔ وہ تو اپنے پیرو کاروں کو صرف اس لئے بلاتا ہے تا کہ وہ دوزخی بن جائیں [فاطر: 6]

شیطان اولادِ آدم کو گمراہ کرنے کیلیے سات انداز اپناتا ہے:
 [1]سب سے پہلے شیطان -اللہ کی پناہ-کفر کی دعوت دیتا ہے ، اگر انسان پہلے داؤ پر ہی اس کی دعوت قبول کر لے تو شیطان کا ہدف پورا ہو جاتا ہے اور شیطان اسے اپنی رذیل جماعت میں شامل کر لیتا ہے، 
[2]لیکن اگر انسان اس کی بات نہ مانے تو پھر اسے بدعت کی دعوت دیتا ہے ، اگر انسان سنت نبوی اور کتاب و سنت پر کار بند رہتے ہوئے بدعات سے بچ جائے
 [3]تو شیطان اسے کبیرہ گناہوں کی دعوت دیتا ہے اور اس کے لیے کبیرہ گناہ خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے، پھر اسے توبہ نہیں کرنے دیتا ، اس پر انسان کبیرہ گناہوں کا دلدادہ بن جاتا ہے اور وہ مکمل طور پر گناہوں کی جکڑ میں آ کر ہلاک ہو جاتا ہے، 
[4]اگر انسان کبیرہ گناہوں کی دعوت بھی قبول نہ کرے تو شیطان صغیرہ گناہوں کی دعوت دیتے ہوئے صغیرہ گناہوں کو معمولی بنا کر پیش کرتا ہے؛ چنانچہ انسان کے صغیرہ گناہوں پر اصرار اور تکرار کے باعث صغیرہ بھی کبیرہ کے برابر ہو جاتے ہیں اور انسان ہلاک ہو جاتا ہے؛ کیونکہ انسان ان گناہوں سے توبہ نہیں کرتا۔ 
[5]انسان اگر صغیرہ گناہوں سے بھی بچ جائے تو شیطان مباح چیزوں میں مگن رکھ کر دیگر نیکیوں سے دور رکھتا ہے، اسے مباح چیزوں میں اتنا مشغول کر دیتا ہے کہ آخرت اور نیکیوں کے لیے جد و جہد کا وقت ہی نہیں ملتا،
 [6]اگر اس داؤ سے بھی انسان بچ نکلے تو انسان سے افضل کام چھڑوا کر غیر افضل کام کرواتا ہے تا کہ انسان کے اخروی اجر و ثواب میں کمی واقع ہو؛ کیونکہ نیکیوں کا ثواب یکساں نہیں ہوتا ، اور
 [7]اگر انسان اس مکاری سے بھی بچنے میں کامیاب ہو جائے تو شیطان اپنا لاؤ لشکر تکلیف دینے کے لیے مومن کے پیچھے لگا دیتا ہے ، جو کہ مومن کو انواع و اقسام کی تکلیفیں پہنچاتے ہیں۔

انسان ہمیشہ شیطان کے شر سے تحفظ اور نجات کے لیے اللہ تعالی کی پناہ مانگے، دائمی طور پر اللہ تعالی کا ذکر کرے، نماز با جماعت کا اہتمام کرے؛ یہ اعمال شیطان سے تحفظ کے لیے قلعہ، جائے پناہ اور حرزِ جان کا مقام رکھتے ہیں، اسی طرح اللہ تعالی پر توکل اور شیطان کے خلاف دائمی جد و جہد، اسی طرح ظلم سے اجتناب بھی باعث نجات اعمال ہیں۔

راہِ حق ،استقامت اور نیکی کے راستے میں یہ عمل بھی رکاوٹ بن سکتا ہے کہ دنیا سے محبت اور آخرت کے مقابلے میں دنیا پر راضی ہو جائیں، دنیا داری میں حلال و حرام کا فرق مٹا دیں، دنیا میں اتنے مگن ہو جائیں کہ آخرت بھول جائیں، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{إِنَّ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا وَرَضُوا بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاطْمَأَنُّوا بِهَا وَالَّذِينَ هُمْ عَنْ آيَاتِنَا غَافِلُونَ (7) أُولَئِكَ مَأْوَاهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ} 
جو لوگ ہم سے ملاقات کی توقع نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی پر ہی راضی اور مطمئن ہوگئے ہیں اور وہ لوگ جو ہماری قدرت کے نشانوں سے غافل ہیں [7] یہی لوگ ہیں ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان کا ٹھکانا آگ ہے۔[يونس: 7، 8]

اسی طرح فرمایا: 
{أَرَضِيتُمْ بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الْآخِرَةِ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ}
 کیا تم آخرت کے مقابلے میں دنیاوی زندگی پر راضی ہو گئے ہو! دنیا کی زندگی تو آخرت کے مقابلے میں معمولی ترین ہے۔[التوبہ: 38]

حقیقت میں دنیا بھی انسان کی دشمن ہے، یہی وجہ ہے کہ جب انسان کے دل پر دنیا کی محبت غالب ہو جائے تو انسان دنیا داری میں مشغول ہو جاتا ہے اور آخرت کیلیے کوئی کام نہیں کرتا اور تباہ ہو جاتا ہے، اس دھرتی کے اکثر لوگ دنیا کو ہی ترجیح دیتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا (16) وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى}
 بلکہ تم دنیاوی زندگی کو ترجیح دیتے ہو [16] حالانکہ آخرت کی زندگی بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔[الأعلى: 16، 17]

دنیا کے شر و ضرر سے نجات اور بچاؤ ایسے طریقے سے دنیا کمانے پر ملے گا جو کہ شرعی طور پر جائز ہو، اور اللہ تعالی کی طرف سے حلال کردہ چیزوں کو بغیر اسراف اور فضول خرچی کے استعمال کریں، اللہ تعالی کی مخلوق پر تکبر اور گھمنڈ مت کریں، ان پر نخوت اور غرور نہ جمائیں، اپنی قوت کے بل بوتے پر حقوق العباد پامال مت کریں۔

یہ بات جاننا بہت ضروری ہے کہ دنیا فانی اور دھوکے والی ہے، یہاں حالات تہ و بالا ہوتے رہتے ہیں، اگر یہ حقیقت ہمیشہ یاد رہے تو اس کی وجہ سے دلوں کی اصلاح ہوتی ہے۔

دنیا کے بارے میں ایک اہم بات جسے پورا کرنا ہر شخص کی ذمہ داری ہے ، وہ یہ ہے کہ دنیاوی مال و متاع میں سے حقوق اللہ اور حقوق العباد پورے کریں جیسے کہ : زکاۃ کی ادائیگی، اہل خانہ اور اولاد کے اخراجات، مہمان نوازی، کمزوروں کی مدد، رفاہِ عامہ کے کاموں میں تعاون، ان سب کیلیے اخلاص ہونا اور ریاکاری سے دوری لازمی امر ہے، ان کاموں کے بدلے میں شہرت، ناموری، کلمات تشکر کچھ بھی مطلوب نہ ہو؛ کیونکہ ریا کاری سے عمل برباد ہو جاتا ہے۔

ایک حدیث ہے کہ : (دنیا سے بے نیاز ہو جاؤ اللہ تعالی تم سے محبت کرے گا، اور لوگوں کے پاس جو کچھ سے اس سے بے نیاز ہو جاؤ تو لوگ تم سے محبت کریں گے) ابن ماجہ نے اسے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

لوگوں کے مال سے بے نیاز ہونے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں پر لوٹ مار نہ کرے اور نہ ہی ان کے حقوق غصب کر کے ان پر ظلم ڈھائے، ان کو حاصل نعمتوں کے زائل ہونے کی تمنا نہ کرے، لوگوں کی دولت پر نظر نہ رکھے۔

مسلمان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے نفس کا مسلسل محاسبہ کرے اور اسے صراطِ مستقیم پر گامزن رکھے، نفس کو شیطانی مکاریوں اور ہتھکنڈوں سے بچاتے ہوئے ہوس پرستی سے بھی دور رکھے، نیز دنیا کے دھوکے میں نہ آنے دے؛ کیونکہ دنیاوی فائدے سب عارضی ہیں۔

یا اللہ! ہمیں ہمارے نفسوں اور بد اعمالیوں کے شر سے محفوظ فرما، یا اللہ! تمام مسلمانوں کو ان کے نفسوں اور بد اعمالیوں کے شر سے محفوظ فرما۔

آمین یارب العالمین!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں