اتوار, نومبر 12, 2017

شکر کی اہمیت، فضیلت، افادیت اور سلیقہ - خطبہ جمعہ مسجد نبوی,,

 خطبہ جمعہ مسجد نبوی
ترجمہ: شفقت الرحمان مغل

فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے 21 صفر 1439 کا مسجد نبوی میں خطبہ جمعہ بعنوان " شکر کی اہمیت، فضیلت، افادیت اور سلیقہ" ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ شکر ہر شخص پر واجب اور ضروری ہے؛ چنانچہ اللہ تعالی اپنی نعمتیں بھی شکر کی یاد دہانی کے لیے لوگوں کو بتلاتا ہے؛ کیونکہ کچھ نعمتوں کا تو انسان کو ادراک ہوتا ہے لیکن اکثر نعمتوں کا انسان کو ادراک ہی نہیں جیسے کہ محافظ فرشتے اور انسانی رگ و پے خود کار طریقے سے ہر وقت کام میں لگے رہتے ہیں اور انسان کو ان کا احساس بھی نہیں ہوتا، پھر انہوں نے کہا کہ شکر کے لیے نعمت کنندہ سے محبت، اس کے سامنے عاجزی اور اس بات پر یقین محکم کہ ہمہ قسم کی نعمت اللہ کی جانب سے ہی ہے اور یہ اس کا محض فضل ہے، پھر زبان سے شکر ادا کرے اور نعمت کا صحیح استعمال کرے۔

خطبے سے منتخب اقتباس پیش ہے:


اللہ کے بندو!

اللہ تعالی تمہیں اپنی خاص و عام نعمتوں کی یاد دہانی اس لیے کرواتا ہے کہ تم اس کا شکر ادا کرو، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللَّهِ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ}
 ایمان والو! تم اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو یاد کرو، کیا اللہ کے سوا کوئی خالق ہے جو تمہیں آسمان و زمین سے رزق دے؟ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے؛ تو تم کہاں بہکتے جا رہے ہو؟[فاطر : 3]

اسی طرح فرمایا:
 {وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَاقَهُ الَّذِي وَاثَقَكُمْ بِهِ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ} 
تم اپنے اوپر اللہ کی نعمت اور اس عہد کو یاد کرو جو اللہ نے تم سے لیا تھا، جب تم نے کہا تھا: "ہم نے سن لیا اور عہد کی پاسداری کی"، اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ تعالی سینے کے رازوں کو جاننے والا ہے۔[المائدة : 7]

اللہ تعالی نے یہ بھی بتلا دیا کہ سب نعمتیں اللہ کی طرف سے ہیں، تا کہ ہم اللہ کا حق ادا کرنے کیلیے اسی کی عبادت اور شکر بجا لائیں، اور اللہ تعالی سے مزید نعمتوں کی چاہت رکھیں، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{وَمَا بِكُمْ مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنَ اللَّهِ} 
تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے، وہ اللہ ہی کی طرف سے ہے[النحل : 53]

اسی طرح فرمایا: 
{مَا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّهِ وَمَا أَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَفْسِكَ}
 آپ کو جو بھی بھلائی ملے تو وہ اللہ کی طرف سے ہے، اور جو بھی برائی پہنچے تو وہ آپ کے نفس کی طرف سے ہے۔[النساء : 79]

چنانچہ ہر اعتبار سے نعمتیں انسان کو فضل اور رحمت الہی کی وجہ سے ملتی ہیں، جبکہ نقصانات انسان کے اپنے اعمال کی وجہ سے ہوتے ہیں، اگرچہ اللہ تعالی نے انہیں ہمارے مقدر میں لکھا ہوتا ہے، تاہم اللہ تعالی کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں فرماتا۔

لوگوں کو کافی نعمتوں کا ادراک ہوتا ہے، لیکن اکثر نعمتوں سے نابلد رہتے ہیں! اے انسان! کتنی ہی نعمتوں سے اللہ تعالی نے تمہیں نوازا ہے؟ تم ان نعمتوں سے لا شعوری میں لطف اندوز ہوتے ہو، اور کتنی ہی مصیبتیں اللہ تعالی نے تمہارے علم میں لائے بغیر تم سے دور کیں ؟!

اللہ نے فرمایا: 
{وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ}
 اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرو تو گن نہیں سکو گے، بیشک انسان ہی ظالم اور نا شکرا ہے۔[إبراہیم : 34] بلکہ نعمتوں کے اعداد و شمار سے عاجز اکثر نعمتوں کے بارے میں تو جانتے بھی نہیں ہیں!

اللہ تعالی ہمیں نعمتیں اس لیے عنایت کرتا ہے کہ ہم انہیں عبادت و اطاعتِ الہی ، اور زمین کی آباد کاری و اصلاح کے لیے صرف کریں، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

{وَاللَّهُ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ}
 اور اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے بالکل نابلد پیدا کیا اور اس نے تمہارے کان ،آنکھیں اور دل بنا دیئے ، تاکہ تم شکر کرو [النحل : 78]

نعمتوں کا شکر ادا کرنے کےلیے ان چیزوں کو جمع کرنا ضروری ہے کہ: نعمتیں عطا کرنے والے سے محبت، نعمتوں کی نوازش پر اللہ تعالی کےلیے انکساری، ہر اعتبار سے یقین محکم کہ حاصل شدہ تمام نعمتیں اللہ کی طرف سے محض فضل و احسان ہیں، بندے کا اللہ تعالی پر کوئی حق نہیں ، زبان کے ذریعے ان نعمتوں پر ثنائے الہی بجا لائے، انہیں اللہ کا فقیر و محتاج بن کر قبول کرے، نعمتوں کی قدر کرتے ہوئے انہیں اللہ تعالی کی پسندیدہ جگہوں میں استعمال کرے ۔

چنانچہ جو شخص اللہ تعالی کی نعمتوں کو رضائے الہی کی جگہوں پر استعمال کرے، انہیں اقامتِ دین کےلیے بروئے کار لائے، ان کے ذریعے فرائض و واجبات ادا کرتے ہوئے مخلوق کے ساتھ اچھا برتاؤ رکھے تو ایسا شخص نعمتوں کا شکر ادا کرنے میں کامیاب ہے۔

نعمتوں کی وجہ سے غرور و تکبر نہیں کرنا چاہیے، شیطان کسی کے دل میں یہ وسوسہ نہ ڈالے کہ وہ ان نعمتوں کی وجہ سے دوسروں پر فوقیت رکھتا ہے، اور اسے یہ نعمت اس لیے عنایت کی گئی ہے کہ اس کے پاس دوسروں کے مقابلے میں امتیازی صفات ہیں!!

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی جانب لکھ بھیجا کہ: "نعمت عطا کرنے والے کا لوگوں پر کم از کم یہ حق ہے کہ اس کی نعمت کو معصیتِ الہی کے راستے میں استعمال نہ کیا جائے"

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: (اللہ کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں پر اللہ تعالی سے محبت کرو) ترمذی نے اسے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ، اور اسے صحیح کہا ہے۔

نعمتوں کی سب سے بڑی ناشکری؛ قرآن و سنت کا انکار ہے، اسلام کا انکار کرنے کی صورت میں کسی بھی نعمت کا شکر سود مند ثابت نہیں ہو سکتا، اللہ تعالی کا فرمان ہے:
 { وَمَنْ يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ}
 اور جو ایمان سے انکار کر دے تو اس کے سارے اعمال ضائع ہوگئے، اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا۔[المائدة : 5]

شکر گزار ہی دنیا و آخرت کی بھلائیاں حاصل کرنے میں کامیاب ہونگے، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ}
 اور اللہ تعالی شکر کرنے والوں کو عنقریب بدلہ دے گا۔[آل عمران : 144]

اسی طرح فرمایا:
 { وَمَنْ يُرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَنْ يُرِدْ ثَوَابَ الْآخِرَةِ نُؤْتِهِ مِنْهَا وَسَنَجْزِي الشَّاكِرِينَ}
 جو دنیا کا بدلہ چاہے ہم اسے دنیاوی بدلہ دیتے ہیں، اور جو آخرت کا بدلہ چاہے تو ہم اسے اخروی بدلہ دیتے ہیں، اور عنقریب ہم شکر گزاروں کو جزا دینگے۔[آل عمران : 145]

شکر کرنا انبیا، رسولوں، اور اللہ کے مؤمن بندوں کا مقام ہے۔

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ : "آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اتنا لمبا قیام فرماتے کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے" تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے عرض کیا: "اللہ کے رسول! آپ اتنا لمبا قیام کرتے ہیں کہ قدم سوج جاتے ہیں! حالانکہ اللہ تعالی نے آپ کی گزشتہ اور پیوستہ تمام لغزشیں معاف کر دی ہیں!" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تو کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں!) بخاری، مسلم

اللہ کی مخلوق میں سے شکر گزار لوگ اللہ کے مقرب بندے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انکی تعداد کم ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
 {وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ} 
میرے بندوں میں شکر گزار کم ہیں ۔[سبأ : 13]

چنانچہ جو شخص دائمی شکر گزاری کرتا رہے تو اللہ تعالی اسے مزید عنایت فرمائے گا، جو شخص صراطِ مستقیم پر گامزن رہے اسے عزت اور نعمتیں ملتی رہیں گی، اور جو معصیت سے اطاعت میں آ جائے تو اللہ تعالی بھی اس کے حالات ابتری سے بہتری میں تبدیل فرما دیتا ہے۔

اللہ کے بندو! ایسے شکر گزار بنو جن پر اللہ تعالی اپنی خیرات خوب برساتا ہے، امام ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "مدارج السالکین" میں اللہ تعالی کا ایک مقولہ ذکر کیا ہے کہ: "میرا ذکر کرنے والے میری مجلس کے حقدار ہیں، میرا شکر کرنے والے میری طرف سے زیادہ خیرات کے مستحق ہیں، میرے اطاعت گزار ہی میرے ہاں با عزت ہیں، نافرمان لوگوں کو میں کبھی بھی اپنی رحمت سے مایوس نہیں کرتا، چنانچہ اگر گناہگار توبہ کریں تو میں انکا حبیب ہوں، اور اگر توبہ نہ کریں تو میں انکا طبیب ہوں، میں انہیں مصائب سے دوچار کرتا ہوں تا کہ معایب سے پاک صاف کروں"

ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مفید نصیحتوں میں سے یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (معاذ! میں تم سے محبت کرتا ہوں، اس لیے تم ہر نماز کے بعد کہا کرو: "اَللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبادَتِكَ"[یا اللہ! تیرے ذکر، شکر، اور اچھی طرح تیری عبادت کیلیے میری مدد فرما]) اس روایت کو ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے اور یہ نبوی نصیحت ساری امت کےلیے ہے۔

شکر کرنے پر فائدہ شکر کرنے والے کا ہی ہوتا ہے جبکہ شکر کی ادائیگی سے غفلت پر نقصان غافل کا ہی ہوتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: 
{وَمَنْ يَشْكُرْ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ}
اور جو شکر کرے تو وہ اپنے لیے ہی شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو بیشک اللہ تعالی غنی اور تعریف کا مستحق ہے۔ [لقمان: 12]

شکر الہی ادا کرتے ہوئے تقوی الہی اختیار کرو، اور اسکا ذکر ایسے کرو جیسے ذکر کرنے کا حق ہے۔

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی کا فرمان ہے:
 {إِنْ تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ وَلَا يَرْضَى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ وَإِنْ تَشْكُرُوا يَرْضَهُ لَكُمْ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى ثُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ مَرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ}
 اگر تم کفر کرو تو اللہ تم سے بے پرواہ ہے، وہ اپنے بندوں سے کفر پسند نہیں کرتا، اور اگر تم شکر کرو تو وہ اسے تمہارے لیے پسند کرتا ہے ۔ کوئی جان کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔ آخر کار تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو ، وہ تو دلوں کا حال جاننے والا ہے [الزمر : 7]

یہ بات ذہن نشین کر لو کہ: انسان جتنی بھی اللہ کی عبادت و ریاضت کر لے کسی بھی صورت میں اللہ کا کما حقہ شکر ادا نہیں کر سکتا، پھر بھی فرائض کی ادائیگی کرے اور ممنوعات سے دور رہے، اور یہ بات سمجھ لے کہ اگر اللہ تعالی کی رحمت نہ ہوتی تو وہ خسارہ پانے والوں میں سے ہو تا، اسی طرح اپنی کمی کوتاہی پر استغفار کرتا رہے، اللہ تعالی سے اپنی مدد اور کامیابی کیلیے دعا گو رہے اور کثرت سے ذکرِ الہی میں مشغول رہے؛ کیونکہ ذکر کرنے سے انسان بڑے بلند مقام اور مرتبے تک پہنچ جاتا ہے۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی الل علیہ وسلم دعا فرمایا کرتے تھے:
 (رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا، لَكَ ذَكَّارًا، لَكَ رَهَّابًا، لَكَ مِطْوَاعًا، لَكَ مُخْبِتًا، إِلَيْكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا، رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي، وَاغْسِلْ حَوْبَتِي، وَأَجِبْ دَعْوَتِي، وَثَبِّتْ حُجَّتِي، وَسَدِّدْ لِسَانِي، وَاهْدِ قَلْبِي، وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ صَدْرِي 
[یا اللہ! مجھے اپنا بہت زیادہ شکر اور ذکر کرنے والا بنا، تجھ سے بہت زیادہ ڈرنے والا، تیری اطاعت کرنے والا، تیرے لیے مر مٹنے والا، اور تیری ہی جانب رجوع اور انابت کرنے والا بنا، میرے پروردگار! میری توبہ قبول فرما، میرے گناہ دھو ڈال، میری دعا قبول فرما، میری حجت ثابت کر دے، میرے دل کو ہدایت دے، میری زبان راست فرما، اور میرے سینے سے کینہ نکال باہر کر]) ابو داود نے روایت کیا ہے، اور ترمذی اسے حسن صحیح حدیث قرار دیا۔

اور ایک حدیث میں ہے کہ:
 ( جو شخص صبح کے وقت کہے: "اَللَّهُمَّ مَا أَصْبَحَ بِي مِنْ نِعْمَةٍ أَوْ بِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ فَمِنْكَ وَحْدَكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ" [یا اللہ! صبح کے وقت جو بھی نعمت مجھے یا تیری مخلوق میں سے کسی کو ملی ہے تو وہ صرف تیری ہی طرف سے ہے اس میں تیرا کوئی شریک نہیں] تو رات کو اسے جو نہ مل سکا وہ اسے مل جائے گا۔ اور جو شخص شام کے وقت کہے: "اَللَّهُمَّ مَا أَمْسَى بِي مِنْ نِعْمَةٍ أَوْ بِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ فَمِنْكَ وَحْدَكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ" [یا اللہ! شام کے وقت جو بھی نعمت مجھے یا تیری مخلوق میں سے کسی کو ملی ہے تو وہ صرف تیری ہی طرف سے ہے اس میں تیرا کوئی شریک نہیں] تو دن میں اسے جو نہ مل سکا وہ اسے مل جائے گا)

اللہ کا تم ذکر کرو وہ تمہیں کبھی نہیں بھولے گا، اسکی نعمتوں پر شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے، اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔



0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں