ہفتہ, نومبر 11, 2017

محبت آزماؤ گے؟؟؟

محبت آزماؤ گے؟؟؟
شاعرہ : ایمان شہروز

محبت آزماؤ گے؟؟؟
ابھی تم نے کہا نا ! کہ "محبت آزماؤ گے!!!"
چلو اب یہ بھی بتلا دو کہ کیسے آزماؤ گے؟
سُنو! تم طفلِ اُلفت ہو! تمہیں معلوم ہی کیا ہے؟
محبت کِس کو کہتے ہیں، محبت کیسے ہوتی ہے؟
تمہیں بس یہ پتا ہے کہ، "محبت مر نہیں سکتی،
محبت باتیں کرتی ہے، محبت ساتھ رہتی ہے،
محبت ایک کرتی ہے، محبت جان دیتی ہے" 
یا پھر تم یہ سمجھتے ہو ،" محبت ایک دھوکہ ہے،
ہوس ہے، جسم کی چاہ ہے، محبت مار دیتی ہے،
محبت چھوڑ دیتی ہے، محبت جھوٹ ہوتی ہے"
تو تمہارے مطابق بس! محبت یہ ہی ہوتی ہے؟؟؟
اِسے تم آزماؤ گے؟؟
یہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی تم آزماؤ گے؟؟
یا پھر تم آزما بیٹھے؟؟
کہا نا! طفلِ اُلفت ہو، تمہیں معلوم ہی کیا ہے؟؟
محبت یہ نہیں ہوتی، یہ جس کو تم سمجھتے ہو،
تمہیں بتلاؤں یہ کیا ہے؟؟ کبھی "آئینہ" دیکھا ہے؟؟؟
کہ جِس کا عکس نہ ہو، پھر بھی وہ ہر عکس رکھتا ہے،
اگر بادل ہو تو بادل، اگر سورج ہو تو سورج،
اگر سایہ ہو تو سایہ، اگر روشن ہو تو روشن،
چھپاتا کچھ نہیں ، ہر حال بلکل سچ بتاتا ہے،
اِسے ہم جو بھی دِکھلائیں، ہمیں وہ ہی دکھاتا ہے،
"محبت آئینے سی ہے، بہت ہی صاف اور شفاف،
اِسے ہم جس طرح دیکھیں، یہ ویسے ہی تو دِکھتی ہے،
ہاں بالکل آئینے جیسی!!!
یہ توڑا تو نہیں کرتی، اِسے ہم توڑ دیتے ہیں،
یہ مارا بھی نہیں کرتی، اِسے ہم مار دیتے ہیں،
ہاں سب کچھ ہم ہی کرتے ہیں، اِسے الزام دیتے ہیں،
کہا نا ! آئینے جیسی!!!
ہم اِس کو آزمائیں کیا؟ یہ ہم کو آزماتی ہے!
محبت جیت جاتی ہے، مگر ہم ہار جاتے ہیں"
تمہیں اب یہ بھی بتلاؤں؟
 کہ اِس میں جیتنا یا ہارنا ، کچھ بھی نہیں ہوتا!
یہ سب ذوقِ انا، تسکینِ دِل ، وقتی تسلی ہے،
ضرورت کے تقاضے ہیں، یہ خواہش کے تماشے ہیں!
محبت یہ نہیں یارم!
 محبت ! بس محبت ہے!
یہ خود خاموش ہوتی ہے، یہ خاموشی سے ہوتی ہے!
یہ بس توفیق ہوتی ہے، فقط محسوس ہوتی ہے،
عطائے ربَّ یکتا ہے، یہ ہر اِک دِل میں ہوتی ہے،
مگر! احساس مرنے پر، محبت مر بھی جاتی ہے!
تم اِس کو آزماؤ گے؟؟؟محبت آزماؤ گے؟؟؟
ذرا آئینہ دیکھو تو! ذرا خود کو بھی پہچانو!
محبت آزماؤ گے؟

شاعر: نا معلوم

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں