Musalsal



اس کائناتِ محبّت میں ہم مثل شمس و قمر کے ہیں
ایک رابطہ مسلسل ہے، ایک فاصلہ مسلسل ہے

میں خود کو بیچ دوں پھر بھی، میں تجھ کو پا نہیں سکتا
میں عام سا ہمیشہ ہوں، تو خاص سا مسلسل ہے

وقتِ وصال کی بھی اک آرزو ادھوری ہے
ایک آس سی ہمیشہ ہے، ایک خواب سا مسلسل ہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں