اتوار, نومبر 27, 2011

~!~ Teri Khushboo ~!~







یہ دل روشن ہے تیری روشنی سے
سراپا ان چراغوں کا تجھے حیرت سے تکتا ہے
میری ویران حسرت کو وہی آباد کرتا ہے
جو سایہ ساتھ رکھتا ہے، جو وعدے کو نبھاتا ہے
محبت فرض اُن پر ہے جنہیں سونا نہیں آتا
یہ حکمت اُن پہ واجب ہے جنہیں رونا نہیں اتا
کسی تاریک گوشے میں، کہیں شعلہ بھڑکتا ہے
پُجاری کی عقیدت سے خدا کا دل دھڑکتا ہے
جہاں میں خواہشوں کے پھل تیری پہلی نظر سے ہیں
نفس کی کاوشوں کے پھل تیری پہلی نظر سے ہیں
وفاداری غلامی ہے، یہ مجھ کو راس آتی ہے
ندامت کی اک ادا سے دل کو میرے کھینچ لاتی ہے
مقدس تیرگی میں بس تجھے محسوس کرتا ہوں
میں ہر پل روشنی میں بس تجھے محسوس کرتا ہوں
مجھے معذور خوابوں سے یہی بیدار کرتی ہے
سوا تیرے ہر اک شے بس مجھے بے زار کرتی ہے
مجھے مسرور کرتی ہے، میری تلخی بُھلاتی ہے
میرے محبوب موسم کو میرا اپنا بناتی ہے
یہ اُڑتی بادلوں میں اور کبھی اطراف پھرتی ہے
میرے اندر کی چنگاری فروزاں کرتی رہتی ہے
عجب انصاف کرتی ہے، مُجھے عادل بناتی ہے
تیری خوشبو مجھے سرشار رکھتی ہے

(سہیل احمد )

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں