ہفتہ, نومبر 26, 2011

~!~ kitabain ~!~





کتابیں جھانکتی ہیں بند الماری کے شیشوں سے
بڑی حسرت سے تکتی ہیں
مہینوں اب ملاقاتیں نہیں ہوتیں
جو شامیں ان کی صحبت میں کٹا کرتی تھیں ، اب اکثر
گزر جاتی ہیں کمپیوٹر کے پردوں پر
بڑی بےچین رہتی ہیں
انہیں اب نیند میں چلنے کی عادت ہوگئی ہے
بڑی حسرت سے تکتی ہیں
جو قدریں وہ سناتی تھیں۔۔۔۔۔
کہ جن کے سیل کبھی مرتے نہیں تھے
وہ قدریں اب نظر آتی نہیں گھر میں
جو رشتے وہ سناتی تھیں
وہ سارے ادھڑے ادھڑے ہیں
کوئی صفحہ پلٹتا ہوں تو اک سسکی نکلتی ہے
کئی لفظوں کے معنی گرپڑے ہیں
بنا پتوں کےسوکھے ٹنڈ لگتے ہیں وہ سب الفاظ
جن پر اب کوئی معنی نہیں اگتے
بہت سی اصطلاحیں ہیں ۔۔۔۔
جو مٹی کے سکوروں کی طرح بکھری پڑی ہیں
گلاسوں نے انہیں متروک کرڈالا
زباں پہ ذائقہ آتا تھا جو صفحے پلٹنے کا
اب انگلی کلک کرنے سے بس اک
جھپکی گزرتی ہے۔۔۔۔۔
بہت کچھ تہہ بہ تہہ کھلتا چلا جاتا ہے پردے پر
کتابوں سے جو ذاتی رابطہ تھا کٹ گیا ہے
کبھی سینے پہ رکھ کے لیٹ جاتے تھے
کبھی گودی میں لیتے تھے
کبھی گھٹنوں کو اپنے رحل کی صورت بناکر
نیم سجدے میں پڑھا کرتے تھے چھوتے تھے جبیں سے
خدا نے چاہا تو وہ سارا علم تو ملتا رہے گا بعد میں بھی
مگر وہ جو کتابوں میں ملا کرتے تھے سوکھے پھول
کتابیں مانگنے گرنے اٹھانے کے بہانے رشتے بنتے تھے
ان کا کیا ہوگا
وہ شاید اب نہیں ہوں گے

Gulzaar

1 تبصرہ:

  1. I got a Valuable reply for this poem by one of my Respected Brother on my e-mail:

    واہ بہت خوب، کیا کہنے
    ایک حقیقت جو اس قدر تلخ بھی نہیں
    اگر یہی کتابیں آئ پیڈز پر پڑھی جائیں
    آئ پیڈز کو کتابوں کی طرح بیٹھ کر لیٹ کر
    ہاتھوں میں تھام کر
    گھٹنوں کو رحل بنا کر
    اس ایک کتاب نما برقی آلے میں
    دنیا جہاں کی، ہر زبان کی کتابیں
    پڑھی جاسکتی ہیں، اور وہ بھی مفت
    برقی کتاب کے صفحات کو
    ٹچ پیڈ اسکرین پر
    انگلیوں سے چھونے، ورق پلٹنے
    کا بھی اپنا مزہ ہے
    کاغذ کی ایجاد سے قبل
    یہ " کتابیں" سینہ بہ سینہ
    سنائی اور سنی جاتی تھیں
    کسی داستان گو کی داستان میں
    کسی شاعر کی زبان میں
    کاغذ کی ایجاد نے
    ان کتابوں کا حصول سہل بنا دیا
    شاعر و ادیب اور پیمبروں کے افکار
    ان کے جانے کے بعد بھی
    چھپے الفاظ میں بولتے رہے
    کاغذ مہنگا ہوتا گیا،
    کتابیں قاری کی دسترس سے دور ہوتی گئیں
    لیکن اب
    انٹر نیٹ اور آئ پیڈز کی بدولت
    دنیا بھر کی کتابیں ہماری انگلیوں کے نیچے
    محض ایک ٹچ اسکرین آئ پیڈز کے نیچے سما گئی ہیں
    جنہیں ہم ایک کتاب ہی کی طرح پڑھ سکتے ہیں
    ایک کتاب، جس میں ہزارہا بلکہ لاکھوں کتابیں
    ہماری منتظر ہیں
    اور ان کتابوں کے لئے کسی الماری کی ضرورت نہیں
    محض ایک ہینڈ بیگ میں
    ایک سِم کی بدولت علم کی دولت کے دروازے
    کھل جا سِم سِم کی طرح
    ہمارے سامنے کھل جاتے ہیں۔
    ہم چاہیں تو انہیں تو انہیں کتاب کے چھپے لفظوں کی طرح پڑھتے چلے جائیں
    پڑھتے پڑھتے تھک جائیں تو
    آنکھیں بند کرکے
    کانوں میں ہیڈ فون لگا کر
    علم کے موتی چنتے جائیں
    اور جب چاہیں
    سماعتوں اور بصارتوں کے بند دریچے کھول کر
    کسی مووی سے لطف اندوز ہوں
    دور بہت دور اپنے کسی پیارے سے
    آن لائن باتیں کریں
    ویب کیم کے چلمن سے
    انہیں اپنی جھلک دکھلا کر چھپ جائیں
    ان سے ان کی تصویر مانگنے کی بجائے
    ویب کیم آن کرنے کی فرمائش کریں
    اور اپنے آئی پیڈ میں تصویر یار کو
    محفوظ کرکے بسا لیں
    اورجب چاہیں گردن جھکا کر دیکھ لیں
    کسی کتاب کے اوراق کی بیچ چھپا کر رکھی تصویر کی طرح

    جواب دیںحذف کریں