جمعرات, فروری 11, 2016

توبہ


توبہ کی، پھر توبہ کی، ہر بار توبہ توڑ دی
میری اس توبہ پہ توبہ، توبہ توبہ کر اٹھی

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں