توبہ

  • فروری 11, 2016
  • By سیما آفتاب
  • 0 Comments


توبہ کی، پھر توبہ کی، ہر بار توبہ توڑ دی
میری اس توبہ پہ توبہ، توبہ توبہ کر اٹھی

0 comments