محبت کا عجب رشتہ ۔۔۔ دعا



 
دعا محبت کا ایک عجیب رشتہ ہے، اپنے کچھ نہ ہونے کا احساس رکھتے ہوئے کسی ایسے سے سب مانگنا جو سب ہے، جو سب دے سکتا ہے، جو ہر شے پر قادرِ مطلق ہے، جس کے سامنے آپ کو اپنا کچھ نظر نہیں آتا۔ جو جب دل کی دنیا پر چھا جائے تو ایسا احساس جگمگا دیتا ہے کہ:

"میں ہوں ناں میرے بندے تو یہاں وہاں کہاں بھٹکتا ہےَ من آنگن میں جو صحرا اگ آیا ہے، جس کی شدت حلق میں کانٹے گا لائی ہے، تو مجھ سے پانی کیوں نہیں مانگتا؟

آ تیرے تشنہ من آنگن میں محبت کی وہ بارش کردوں جو تجھے اندر باہر سے جل تھل کردے۔

تو میرا ہے، میں تیرا ہوں کیا یہ ترے لیے کافی نہیں؟؟

بھلا مجھ سے جدا یہاں وہاں مارا مارا پھرتا ہے؟ کیا کوئی اپنی اصل سے جدا سکون پا سکا ہے؟

تیرے یہ اشک مجھ سے پہتر کون چوم سکتا ہے، تیری بے بسی کو مجھ سے پہتر کون جا سکتا ہے؟

تیرے دل کا حال مجھ سے بہتر کوئی جان سکتا ہے؟

تیرے اضطراب کو کیا مجھ سے بہتر کوئی قرار بخش سکتا ہے؟

آ تیرے دلِ مضطر پر اپنے ہاتھ کی محبت بھری تسلی دھر دوں

آ تیری بے رنگ زندگی میں رنگ بھر دوں

تیری تلاش دراصل میری تلاش ہے، یہ میری پہچان، مجھ سے آشنائی کا وہ سفر ہے جس میں یہ سب لازم ہے اور اس کا سفر 'دعا' کے بنا ادھورا ہے!!

دعا محبت کا ایک عجب رشتہ ہے جو ایک 'عطا' ہے۔

(منقول)

تبصرے

زیادہ دیکھی گئی تحاریر

ماہ رمضان نیکیوں کی بہار – مقتبس خطبہ جمعہ مسجد نبوی

خوش ترین زندگى، زندگى با قناعت است

استقبالِ رمضان-22

شکر ہے تیرا خدایا

زمرہ جات

اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل