جمعہ, فروری 19, 2016

میرے اللہ تو کریم ہے

میرے اللہ تو کریم ہے
میرے اللہ تو رحیم ہے

تیرے بندے ہیں ہم سب، اک نظر دیکھ لے اب
حال بے حال ہوئے ہیں، ہم گناہوں میں پڑے ہیں

میرے اللہ تو کریم ہے
میرے اللہ تو رحیم ہے

تیرے قرآن کو بھولے
تیرے احسان کو بھولے
علم لا حاصل ہیں ہم
کہنے کو قابل ہیں ہم
ہاں وہ اعمال نہیں وہ
ہم سے پہلوں کے تھے جو 
پھر سے تُو ایسا کردے
جذبہ وہ تازہ کردے

میرے اللہ تو کریم ہے
میرے اللہ تو رحیم ہے

رومیؔ و جامیؔ کوئی ہو
حافظؔ و سعدیؔ کوئی ہو
 حمد و نعت پڑھیں سنگ
دے بدل جینے کا ڈھنگ
ربط پھر تجھ سے جوڑیں
پھر سے دنیا کی چھوڑیں
درسِ تبلیغ سنیں ہم
آج اک ہوکے چلیں ہم

میرے اللہ تو کریم ہے
میرے اللہ تو رحیم ہے

واسطہ اُن کا دے کر
امتی اُن کا کہہ کر
ہے طلبگارِ جنت
 مصطفیﷺ کی یہ امت 
زہد و تقویٰ دے تُو
کام کچھ ایسا لے تُو
جس سے راضی ہو جائے
حال ماضی ہوجائے

میرے اللہ تو کریم ہے
میرے اللہ تو رحیم ہے

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں