پلیز، آپ لیموں نہ بنیں:

پلیز، آپ لیموں نہ بنیں:

سب کے ساتھ اکثر ہوتا ہے کہ اگر سو بندہ بھی آپکی تعریف کر رہا ہو ، آپکا حوصلہ بڑھا رہا مگر پھر صرف کسی ایک بندے کی منفی بات و حوصلہ شکنی سے آپ اتنا دل پر اثر لیتے ہیں کہ اچھی بات کہنے والے آپکو شاید آپ کبھی بھول جاتے مگر اس منفی بات اور حوصلہ کو توڑ پھوڑ کر دینے والے کو ہمیشہ یاد رکھتے اور مستقبل میں ہمیشہ اس سے دور رہنے کی ہی کوشش کرتے. 

کسی کی کامیابی سے جلنا ، حسد کرنا ، نظر آتا دیکھ کر بھی اسکی محنت کو نہ ماننا ، حوصلہ افزائی و تعریف نہ کرنا، اپنی عقل ٹھیک اور دوسروں کی بات غلط لگنا، صرف منفی بات ہی پکڑ کر اسکو ظاہر کرنا، منفی کمنٹس دینا، اوروں کو بھی مذاق بنانے کو شامل کرنا وغیرہ وغیرہ یہ وہ تمام احساسات ہیں جو لوگوں کے دلوں کبھی نہ کبھی پیدا ہو ہی جاتے ہیں، ہمیں پتا بھی نہیں چلتا اور ہم بہت دل توڑ جاتے ہیں، جب احساس ہوتا تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے، یا تو پودا مرجھا چکا ہوتا ہے یا کسی اور کے خیال سے وہ اتنی نشونما پا جاتا ہے کہ اسکو پھر آپکی پروا ہی نہیں رہتی کہ اور بہت سے مل جاتے دھوپ سے بچانے، پانی وغیرہ ڈالنے کو.

ہمیں مسلسل سیکھتے رہنا چاہیے اور ساتھ ہی ہمیں خود کو پرکھنا پڑے گا کہ ہم کیسے خود کو بہتر سے بہتر بنائیں، یاد رکھیں کہ ایسی منفی باتیں سب کو پیش آ سکتی، یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے بس ہمیں قابو رکھنا ہے خود پر اور اس عادت کو ختم کرنا ہے. اگر ہم کسی کو صرف الفاظ ہی اچھے نہیں دے سکتے تو باقی چیزیں دینا تو دور کی بات ہے پھر.تو دوستو، اپنی باتوں ، جملوں اور الفاظوں کو اچھا بنائیے، دل میں حسد و جلن محسوس ہو تو صرف چپ رہنا ہی بہتر....کوئی بات نہ کہیں....دل میں چھپا لیں ....رب سے دعا کریں قابو پانے کی ....اگرچہ شروع شروع میں قابو کرنا مشکل ہو گا مگر پھر عادت پر ہی جانی ہے...مثبت سوچ و احساسات خود بخود پیدا ہوتے جائیں گے تب پھر آپ دل سے حوصلہ و تعریف کرنا سیکھ جائیں گے.

آخر میں اتنا ہی کہ یاد رکھیں ہم میں سے ہر ایک بندہ اس دنیا میں اپنی زندگی کی ایسی کتاب لکھ رہا ہوتا ہے کہ جسکے پچھلے اوراق پلٹنا ممکن نہیں ہے اور نہ ہی پھر ہم کسی کو دیا دکھ مٹا سکتے ہیں، ہم صرف روزانہ خوبصورت باتیں لکھ کر ہی اسے اچھا بنا سکتے ہیں.... ہاں مگر صرف معافی و توبہ کا ریموور کسی وقت بھی کام سکتا ہے......آپ خود سمجھ گئے ہوں تو اپنے ارد گرد کے لوگوں کو بھی بتا دیں کہ منفی بات اس ترش لیموں کی طرح ہوتی ہے جس کے چند قطرے ہی کافی ہوتے پورے سالن میں اپنا اثر دکھانے کو.. تو اس لئے پلیز، آپ لیموں نہ بنیں.


تحریر : جمشید

تبصرے

زیادہ دیکھی گئی تحاریر

آٹھ مصیبتیں

دوستی ۔۔۔ میری ایک شعری کاوش

تدبرِ القرآن.... سورہ الکھف..... استاد نعمان علی خان...... حصہ-10

زمرہ جات

اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل