جمعہ, مئی 25, 2012

 
رات کا سمندر ہے
رات بھی محبت کی

بات کا اجالا ہے
بات بھی محبت کی

گھات کی ضرورت ہے
گھات بھی محبت کی

نرم گرم خاموشی
سہج سہج سرگوشی

چور چور دروازے
کون چھپ کے آیا ہے

آرزو نے جنگل میں
راستہ بنایا ہے

جھینپتے ہوئے آنگن
نے درخت سے مل کر

کچھ نہ کچھ چھپایا ہے
آسماں کی کھڑکی میں

سکھ بھری شرارت سے
چاند مسکرایا ہے

چاند مسکرایا ہے
چاندنی نہائی ہے

خوشبوؤں نے موسم میں
آگ سی لگائی ہے

عشق نے محبت کی
آنکھ چومنا چاہی

اور ہوا کے حلقے میں
شوخ سی نزاکت سے

شاخ کمسائی ہے
رات کا سمندر ہے

رات بھی محبت کی
بات کا اجالا ہے

رات بھی محبت کی
بات کے سویرے میں

زندگی کے گھیرے میں
روح ٹمٹمائی ہے

وصل جھلملایا ہے
دل نے بند سینے میں

حشر سا اٹھایا ہے
کون چھپ کے آیا ہے

فرحت عباس شاہ

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں