اُس ادا سے بھی ھوں میں آشنا، تجھے اتنا جس پہ غرور ھے
میں جیوں گا تیرے بغیر بھی، مجھے زندگی کا شعور ھے

نہ ھوس مجھے مئے ناب کی، نہ طلب صبا و سحاب کی
تِری چشم ناز کی خیر ھو، مجھے بے پیے ھی سرور ھے

جو سمجھ لیا تجھے بے وفا، تو اس میں، میری بھی کیا خطا
یہ خلل ھے میرے د ماغ کا، یہ میری نظر کا قصور ھے

کوئی بات دل میں وہ ٹھان کے، نہ الجھ پڑے تیری شان سے
وہ نیاز مند جو کہ سر بہ خم، کئی دن سے تیرے حضور ھے

میں نکل کے بھی تیرے دام سے، نہ گروں گا اپنے مقام سے
میں قتیل جور و ستم سہی، مجھے تم سے عشق ضرور ھے

قتیل شفائی

تبصرے

زیادہ دیکھی گئی تحاریر

یہ وطن تمھارا ہے

سرکار کی گلی میں ۔۔۔

ابلیس سے جنگ کی روداد۔ ۔۔ حج کا سفر ۔۔۔ حصہ-6

جگنو بچے

تدبر القرآن ۔۔۔۔ سورۃ الکوثر از نعمان علی خان

زمرہ جات

غزلیں سورہ البقرہ اللہ امید دعا استقبال رمضان، سوئے حرم پاکستان میری شاعری میرے الفاظ سفرِ حج محبت خطبہ مسجد نبوی خلاصہ قرآن شاعری ایمان، صراط مستقیم یاد حرم اچھی بات، نعت رسول مقبول حمد باری تعالٰی شکر حج 2015 سفرنامہ #WhoIsMuhammad سورۃ الکہف ملی ترانے نمل حج 2017 سورہ الرحمٰن پیغامِ حدیث، استغفار توبہ توکل خوشی دوستی سورہ الکھف علامہ اقبال علم 9نومبر باغبانی حکمت کی باتیں سفر مدینہ قائد اعظم یوم دفاع آبِ حیات آزادی جنت خطبہ حجتہ الوداع رومی، سورۃ الناس شکریہ عید مبارک فارسی اشعار، قرآن کہانی لبیک اللھم لبیک محمد، سوشل میڈیا، معلومات نیا سال، 2017 پیغام اقبال یوم پاکستان 11-12-13 16December2014 APS اردو محاورہ جات بارش جنت کے پتے حج 2016 حیا، خطبہ مسجد الحرام ذرا مسکرائیے زیارات مکہ سورج گرہن 2015 سورہ العلق، سورہ الکوثر سورۃ العصر سورۃ الفاتحہ، طنز و مزاح عاطف سعید عورت قرآن لیس منا ماں محمد، مسدس حالی مصحف موسیقی نمرہ احمد والد یوم خواتین، عورت
اور دکھائیں

سبسکرائب بذریعہ ای میل