~!~ Naya Suraj ~!~

  • جنوری 16, 2012
  • By سیما آفتاب
  • 0 Comments


نیا سورج نیا جلوہ نئی تنویر لے آو
ہمیشہ خواب لائے ہو کبھی تعبیر لے آو

زباں بھی بند کرلیتے مگر اب حکم آیا ہے
تصور کے لیے بھی آہنی زنجیر لے آو
... ...
مرے خوابوں بڑی مشکل سے اس دل کو سلایا ہے
کہیں ایسا نہ ہو تم پھر وہی تصویر لے آو

ہمارا قتل ایسا بھی کوئی مشکل نہیں یاروں
جگر ہاتھوں پہ رکھا ہے تم اپنے تیر لے آو

مری گمنامی پر یہ مشورہ ہے اہل دنیا کا
قلم کو بیچ کر بازار سے شمشیر لے آو

سنہرے بال کھولے منتظر بیٹھی ہے جو کب سے
مصدق زندگی سے اپنی وہ تقدیر لے آو

0 comments