منگل, مئی 19, 2015

اللہ ہے بس پیار ہی پیار


پیار بھرا ہر ایک اشارہ
پیارا اس کا ہر نظارہ
جس نے زمیں پر پیار اتارا
وہ خود ہو گا کتنا پیارا
پیار کا اس کے نہیں شمار،
اللہ ہے بس پیار ہی پیار
اللہ ہے بس پیار ہی پیار

پھول بنائے پیارے پیارے
تتلی، جگنو، رنگ، شرارے
جگمگ کرتے چاند ستارے
اور کہا یہ سب ہیں تمہارے
پیار کا اس کے نہیں شمار
اللہ ہے بس پیار ہی پیار
اللہ ہے بس پیار ہی پیار

برسایا پانی کا تار
ہم کو دی فصلوں کی بہار
گندم ،چاول، مکئی، جوار،
سیب، خوبانی،آم، انار،
پیار کا اس کے نہیں شمار،
اللہ ہے بس پیار ہی پیار
اللہ ہے بس پیار ہی پیار

 
دریائوں میں تیرتی مچھلی
موجیں۔ ساحل، سیپی، موتی
سمجھو تو ہر چیز ہے اپنی
سب پر ایک ہی نام کی تختی
پیار کا اس کے نہیں شمار،
اللہ ہے بس پیار ہی پیار
اللہ ہے بس پیار ہی پیار
طوفانوں میں ڈولتی کشتی
لہر لہر موجوں کی مستی
بادل، بارش، کچی بستی
سب کی مالک ایک ہی ہستی
پیار کا اس کے نہیں شمار،
اللہ ہے بس پیار ہی پیار
اللہ ہے بس پیار ہی پیار

 
دل سے دل کے تار ملائے
بیگانوں کو یار بنائے
غیب سے یوں نصرت پہنچائے
ٹوٹی نیا پار لگائے
پیار کا اس کے نہیں شمار،
اللہ ہے بس پیار ہی پیار
اللہ ہے بس پیار ہی پیار

ماں کی ممتا، باپ کی شفقت
بھائی بہن کا پیار محبت
ہم کو دی رشتوں کی نعمت
ہر پل برسے اس کی رحمت
پیار کا اس کے نہیں شمار
اللہ ہے بس پیار ہی پیار
اللہ ہے بس پیار ہی پیار


شاعر: خلیل اللہ فاروقی

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں