~!~ Khudawanda ~!~

  • دسمبر 04, 2011
  • By سیما آفتاب
  • 0 Comments


خداوندا تری مرضی
تو جو بھی امتحاں لے لے
نہیں ہم جانتے جن کو
انھی کا ہمسفر کردے
جو اس جیون سے پیارے ہوں
انھیں ہم سے جدا کر دے
تری مرضی خداوندا!
تو چاہے آگ پانی ہو
تو چاہے برف جلتی ہو
تو چاہے پھول چبھتے ہوں
تو چاہے خار خوشبو دیں
جسے چاہے بتا دے تو
محبت کس کو کہتے ہیں
جسے چاہے سکھا دے تو
عبادت کس کو کہتے ہیں
جسے چاہے ملا دے تو
جسے چاہے جدا کر دے
وہ جس نے غم نہ دیکھے ہوں
اسے غم آشنا کر دے
تری مرضی تو بن مانگے
سبھی کچھ ہی عطا کر دے
تری مرضی خداوندا
تو چاہے سب فنا کر دے
خداوندا تری مرضی
تو جو بھی امتحاں لے لے
ہمیں جس حال میں رکھے
فقط اتنی گذارش ہے
توجو بھی امتحاں لینا
ہمیں بس سرخرو کرنا

عاطف سعید

0 comments