اتوار, دسمبر 04, 2011

~!~ Main to Kuch bhi Nahi ~!~



میں تو کچھ بھی نہیں۔۔۔

آپ کیا جانے مجھ کو سمجھتے ہیں
میں تو کچھ بھی نہیں
اس قدر پیار، اتنی بھیڑ، میں رکھوں گا کہاں
اس قدر پیار رکھنے کے قابل نہیں میرا دل، میری جاں
!مجھ کو اتنی محبت نہ دو دوستو!
پیار اک شخص کا بھی اگر مل سکے
تو بڑی چیز ہے ذندگی کے لئے
آدمی کو مگر یہ بھی ملتا نہیں، یہ بھی ملتا نہیں
مجھ کو اتنی محبت ملی آپ سے
یہ میرا حق نہیں، میری تقدیر ہے
میں زمانے کی نظروں میں کچھ بھی نہ تھا
میری آنکھوں میں اب تک وہ تصویر ہے
اس محبت کے بدلے میں کیا نذر کروں
میں تو کچھ بھی نہیں
عزتیں، شہرتیں، چاہتیں، اُلفتیں
کوئی بھی چیز دنیا میں رہتی نہیں
آج میں ہوں جہاں کل کوئی اور تھا
یہ بھی اک دور ہے، وہ بھی اک دور تھا
!آج اتنی محبت نہ دو دوستو
کہ میرے کل کے لئے
کل جو گُمنام ہے، کل جو سنسان ہے
کل کو انجان ہے، کل جو ویران ہے
میں تو کچھ بھی نہیں، میں تو کچھ بھی نہی


ساحر لدھیانوی

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں