نفرتوں کے شجر

  • فروری 16, 2015
  • By سیما آفتاب
  • 0 Comments


نفرتوں کے شجر کاٹ دو، کاٹ دو 
جتنا سکھُ بانٹ سکتے ہو تم بانٹ دو 
لوگ سا ئے میں کھنچ کر چلے آئیں گے 
جلتے صحراؤں کی دھوپ کو پاٹ دو


پروین سلطانہ حنا

0 comments