بدھ, فروری 11, 2015

صراطِ مستقیم


صراطِ مستقیم سیدھے , درست یا نیک راستے کو کہتے ہیں. جس کا پتا ہر انسان کو فطری طور پر ہوتا ہے. اور وہ راستہ ہے اچھائی اور سچائی کا راستہ

اچھائی کا راستہ.

اچھائی سے مراد ہے کہ خدا کی مخلوق سے محبت کرنا اور انسانیت کے لیئے دل میں درد رکھنا. اور انسانوں کے ساتھ عملی طور پر بھالائی یا نیکی کرنا. نیکی ایک ایسی قدر ہے جس کا تصور سماجی ہے یعنی آپ نیکی خدا کے ساتھ نہیں کر سکتے اور نا ہی اس کو آپ کی نیکیوں کی ضرورت ہے. نیکی انسان اور انسان کے بیچ کا وہ تعلق ہے. جس کا دآرومدار انسانی محبت اور خدمت پر رکھا ہے.انسان جب دوسروں کے ساتھ رحم دلی, قربانی, اخلاق اور محبت کا برتاوُ کرتا ہے تو وہ اپنے رب کو خوش کرتا ہے اور رب کو خوش کرنا صراطِ مستقیم یا خدا کا راستہ ہے

سچائی کا راستہ

سچائی سے مراد ہے کہ حق اور انصاف کا ساتھ دینا ہے یعنی اپنے اور دوسروں کے متعلق انصاف پسند ہونا. اپنی زندگی میں فیصلے غیر جانبداری اور بغیر تعصبی سوچ کے کرنا سچائی ہے. جب انسان دوسروں کے متعلق سچائی سے کام لیتا ہے تو نا انصافیوں کا ختما ہوتا ہے. جس کی وجہ سے معاشرے میں امن پیدا ہوتا ہے اور امن خدا کا راستہ ہے.

یوں تو ہر سماج میں سچائی اور اچھائی کی قدریں مختلف ہوسکتی ہیں مگر سچائی اور اچھائی کا ماخذ ایک ہوتا ہے اور وہ ہے انسانی محبت جن قدروں کا تصور میں نے پیشن کیا ہے وہ صراطِ مستقیم کا آفاقی تصور ہے. جو ہر دھرم اور مذہب میں یکساں موجود ہے. جس سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا. اس راستے کو ہر انسان با خوبی جانتا ہے مگر پھر بھی انسان مذہب اور نظریے بدلتا رہتا یے مگر جو راستہ وہ جانتا ہے اچھائی اور سچائی کا اس پر نہیں چلتا کیوں کے حقیقت میں صراطِ مستقیم پر چلنے کے لیئے صبر , برداشت, اور درگزر کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا پڑھتا ہے. کبھی کبھی سچائی اور حق کے خاطر خود سے یا اپنوں سے بھی بیر لینا پڑتا ہے اور دوسروں کے لیئے قربانی دینے کے لیئے اپنی خواہشوں کا گلا گھوٹنا پڑتا ہے. جو ایک انتھک محنت اور مشکل طلب کام ہے. اس لیئے لوگ مسجدوں میں سجدے کرکے اور مندروں میں گھنٹے بجا کر یا چرجوں میں کینڈیلیں جلا کر خدا کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر عملی طور پر صراطِ مستقیم کا وہ راستہ نہیں اپناتے جس سے خدا خوش ہوتا ہے۔

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں