امید اور خوف


امید اور خوف
از عمر الیاس

درج ذیل تبصرہ جناب عمر الیاس نے اوپر دیے گئے پیغام کے بارے میں دیا، جو کہ بہت عمدہ وضاحت پیش کرتا ہے اس لیے میں نے چاہا کہ یہ پیغام سب تک پہنچے ۔۔۔ جزاک اللہ خیرا عمر صاحب 🌹


اُمید، خوف اور تذبذب و گمان و یقین کی متوازی لکیریں ہمیشہ سے دلچسپ واقعات رہے ہیں۔ 

گرد و پیش کے مشاہدے، "متاثرین" سے مکالمے اور تاریخی کرداروں کے مطالعے نے اس سلسلے میں کئی زاویے متعین کیے، جن میں سے کچھ اہم نکات یہ ہیں:

١. ہم تقدیر کے نہیں، اللہ کی قدرت کے قابو میں ہیں۔

٢. تقدیر یا قسمت، اللہ کے فیصلے کے مقابل ہمارے اطمینان کی حد کا نام ہے۔ اپنی محنت و تدبیر کے نتائج پر جو جتنی جلدی (اور جتنے میسر حاضر و موجود پر) قانع ہو جائے، اتنا خوش نصیب ہے۔

٣. اطمینان، یاد ِ خدا کے بغیر نہیں ملتا۔ اس میں اہم بات یہ کہ خدا کی یاد، اس کے بندوں سے حسنِ معاملگی کے بنا نہیں ملتی۔

٤. سب پر اتار چڑھاؤ آتے ہیں۔ یہ اچھا یا برا وقت نہیں ہوا کرتا۔ رب کی مرضی کو تولنے والے ہم کون؟ اس میں کوشش یہ کی جائے کہ اللہ کی خوشی میں خوش ہونے کی کوشش کی جائے۔

٥. درجِ بالا کام بہت آئیڈیل یا مشکل لگتا ہے، پر ناممکن نہیں ہے۔ اللہ کی خوشی کے لئے اپنی خوشی کو اللہ کے تابع کرنا ہوگا، مطلب یہ کہ "کنٹرول" چھوڑنا ہوگا۔ اسے عادت میں ڈھالا جا سکتا ہے۔

٦. اپنی امید کو دوسروں کے خوف سے جوڑنا ہے، اور دوسروں کی حوصلہ افزائی کو اپنے خدشات سے۔۔
 یہ کامیاب لوگوں کی راہ ہے (سورۃ العصر). اس میں اہم پہلو یہ ہے کہ آدمی آدمی کا دارُو ہے۔ یہ انبیاء، صالحین اور اولیاء اللہ کی سنت ہے۔




تبصرہ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔ شکریہ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں