سال کی ایک اور گرہ


سال کی ایک اور گرہ


گرہ کی ہے یہی گنتی کہ تا بروز شمار 
ہوا کرے گی ہر اک سال آشکار گرہ 

گرہ سے اور گرہ کی امید کیوں نہ بڑھے 
کہ ہر گرہ کی گرہ میں ہیں تین چار گرہ 

مرزا غالب نے یہ معلوم نہیں کس کی سالگرہ پر کہا تھا، مگر حقیقت ہے کہ ہم ہر سال اس سال کی گرہ کو گنتے چلے جاتے ہیں، نئی سالگرہ پر نئی امیدیں لیے اگلی سالگرہ کا انتظار کرتے ہیں اور اسی طرح سالہاسال گزر جاتے ہیں۔

وقت اور عمر کے ساتھ بھی اس دن کی اہمیت ہماری زندگی میں کم نہیں ہوتی ہاں بس وہ بچپن اور لڑکپن والا جوش نہیں رہتا مگر پھر بھی اپنوں کی طرف سے ایک پیغام کا انتظار رہتا ہے اور پیغام ملنے کی صورت میں دل میں ایک خوشی سی محسوس ہوتی ہے کہ "آج ہماری سالگرہ ہے، دیکھو اس کو یاد ہے نا" :) 

Image result for birthday to me

کوئی بھی منطق کوئی بھی دلیل اس چھوٹی سی خوشی کی اہمیت کم نہیں کرپاتی ہے۔ 

لہٰذا میرا تو ماننا ہے کہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں اکھٹا کرتے رہیں اور خوش رہیں اور خوش رکھیں۔

باقی سالگرہ کا دن نہ بھی یاد رکھا جائے تو زندگی رک تو نہیں جائے گی کیونکہ زندگی کا کام ہی چلتے رہنا ہے۔ 

ہاں اہمیت سالگرہ سے زیادہ زندگی کی ہونی چاہئیے کہ ہماری زندگی ہمارے اور دوسروں کے لیے باعث راحت ہو، باعث آزار نہیں۔ 

جہاں رہیں خوش رہیں۔ :) 


تبصرہ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔ شکریہ

4 تبصرے: