محرم اور آپ


محرم اور آپ

دس باتیں جو آپ کواس مبارک ماہ سے فائدہ اٹھانے کے لیے جاننا ضروری ہیں


1- اس بات کا احساس پیدا کریں کہ آپ کوایک حرمت والا مہینہ نصیب ہوا ہے اور اس پر عمل کریں:

احادیث مبارکہ کے مطابق حرمت والے مہینے ذوالقعدہ، ذو الحجہ، محرم اور رجب ہیں  (البخاری) ۔۔۔ "مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں باره کی ہے، اسی دن سے جب سے آسمان وزمین کو اس نے پیدا کیا ہے اس میں سے چار حرمت وادب کے ہیں۔ یہی درست دین ہے" ۔۔۔ (سورۃ التوبۃ - 36)
اسے اس کی حرمت کے باعث 'محرم' کہا جاتا ہے جو کہ اس کی حرمت اور تقدس کی تصدیق بھی ہے۔
"تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ﻇلم نہ کرو" (سورۃ التوبہ-36)
 یعنی ان حرمت والے مہینوں میں اپنے ساتھ غلط نہ کرو کیونکہ ان مہینوں میں گناہ کرنا باقی مہینوں سے زیادہ درجہ برا ہے۔

عمل کی بات:
اپنی بری عادتوں پر ایک گہری نظر ڈالیں اور ان کو اچھی عادات سے بدل ڈالیں۔

2- روزہ رکھیں:

 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"رمضان المبارک کے بعد اللہ کے مہینے محرم کے روزے سب روزوں سے افضل ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز آدھی رات (یعنی تہجد) کے وقت پڑھی جانے والی نماز ہے۔" (مسلم: کتاب الصيام: باب فضل صوم المحرم؛۱۱۶۳)

3- 'عاشورہ' کا روزہ کیوں رکھیں:

عاشورہ کی تاریخ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
"جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہودی عاشوراء کے دن کا روزہ رکھتے ہیں۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ اس دن روزہ کیوں رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ یہ ایک اچھا (افضل) دن ہے اور یہی وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن (فرعون) سے نجات بخشی (اور فرعون کو اس کے لشکر سمیت بحیرہ قلزم میں غرقاب کیا) تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے (بطورِ شکرانہ) اس دن روزہ رکھا (اور ہم بھی روزہ رکھتے ہیں) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے (شریک ِمسرت ہونے میں) تم سے زیادہ مستحق ہیں۔ چنانچہ آپ نے اس دن روزہ رکھا اور صحابہ کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔" (بخاری: ایضاً ؛ ۲۰۰۴/مسلم؛۱۱۳۰)

مسند احمد کی ایک روایت میں اس بات کا اضافہ ہے کہ "اس دن حضرت نوح کی کشتی جودی کی پہاڑی پر رکی تھی سو اس دن نوح علیہ السلام نے شکرانے کے طور پر روزہ رکھا تھا

اسلام میں روزوں کی فرضیت سے پہلے عاشورہ کا روزہ ایک تدریجی اقدام تھا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے کہ
"قریش کے لوگ دورِ جاہلیت میں عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ روزہ رکھتے تھے۔ پھر جب آپ مدینہ تشریف لے آئے تو تب بھی عاشوراء کا روزہ رکھتے اور صحابہ کرام کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا آپ نے حکم دے رکھا تھا۔ البتہ جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو عاشوراء کی فرضیت ختم ہوگئی۔ لہٰذا اب جو چاہے یہ روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔" (بخاری: کتاب الصیام، باب صوم یوم عاشورا ؛۲۰۰۳/ مسلم: کتاب الصیام، باب صوم یوم عاشوراء ؛۱۱۲۵)

4- عاشورہ کے روزے کا ثواب:

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
"میں نے نہیں دیکھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دنوں میں سے دسویں محرم (یوم عاشوراء) کے اور مہینوں میں سے ماہِ رمضان کے روزوں کے سوا کسی اور روزے کو افضل سمجھ کر اس کا اہتمام کرتے ہوں۔" (بخاری، ایضاً؛۲۰۰۶/ مسلم ایضاً؛۱۱۳۲)

اس دن اہتمام  سے روزہ رکھنے کا مقصد اللہ سے ثواب کی امید رکھنا ہے۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
" مجھے اللہ تعالیٰ سے اُمید ہے کہ یوم عاشورا کا روزہ گذشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔" (مسلم : کتاب الصیام، باب استحباب صیام ثلاثة ایام؛ ۱۱۶۲) 

عمل کی بات: 
اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ اس دن روزہ رکھنے کی توفیق دے تاکہ آپ اس اجر کو حاصل کرنے کے امیدوار بن سکیں، اپنے گزرے ہوئے سال کے گناہوں کو یاد کریں اور اللہ سے اس کی معافی طلب کرتے ہوئے دعا کریں کہ سو آپ کو اس اجر حاصل کرنے والوں میں شامل فرمائے۔

یاد رکھیں روزہ صرف معدے کا نہیں ہوتا، بلکہ زبان اور دوسرے اعضاء کا بھی ہوتا ہے۔ سو غصہ، لڑائی، بحث، غیبت، جھوٹ وغیرہ سے دور رہیں۔

5- کون سا دن 'عاشورہ' ہےََ؟

امام نووی (رح) فرماتے ہیں: 'عاشورہ' اور 'تسوعہ' دو قریبی نام ہیں جو عربی زبان کی کتب میں درج ہیں، ہمارے ساتھی کہتے ہیں کہ عاشورہ محرم کا دسواں دن ہے اور تسوعہ نواں دن ہے۔

6- کیا 'تسوعہ' (9 محرم) کا روزہ 'عاشورہ' (10 محرم) کے روزے کے ساتھ ملانا مستحب ہے؟

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دسویں محرم کا روزہ رکھا اور صحابہ کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم فرمایا تو لوگوں نے عرض کیا کہ
"اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس دن کو یہود و نصاریٰ بڑی تعظیم و اہمیت دیتے ہیں۔ (یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ آپ تو ہمیں یہود و نصاریٰ کی مخالفت کا حکم دیتے ہیں اور یوم عاشوراء کے معاملہ میں تو ان کی موافقت ہورہی ہے۔) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "فاذا کان العام المقبل إن شاء الله صمنا اليوم التاسع" آئندہ سال اگر اللہ نے چاہا تو ہم نویں تاریخ کو بھی روزہ رکھیں گے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگلا سال آنے سے پہلے اللہ کے رسول انتقال فرما گئے۔" (مسلم؛۱۱۳۴)

7- 'تسوعہ' (9 محرم) کا روزہ کیوں مستحب ہے؟

اس کا بنیادی مقصد یہودیوں کی مخالفت ہے کیونکہ وہ صرف عاشورہ کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ جو کہ اوپر حدیث میں بیان ہوا ہے۔
احتیاط کے طور پر اور دس تاریخ کے روزے کو ممکن بنانے کے لیے (اگر چاند دیکھنے میں کوئی غلطی ہوئی ہو)

شیخ الاسلام رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :

یوم عاشوراء کا روزہ ایک برس کے گناہوں کا کفارہ ہے ، اکیلا دس محرم کا روزہ رکھنا مکروہ نہيں ۔ دیکھیں الفتاوی الکبری جلد نمبر ( 5 ) ۔

ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

صرف اکیلا عاشوراء کا روزہ رکھنے میں کوئي حرج نہيں ۔ دیکھیں کتاب : تحفۃ المحتاج باب صوم التطوع جلدنمبر ( 3 ) ۔

8- گناہوں سے کفارہ:

امام النووی فرماتے ہیں: "عرفہ کے دن کا روزہ دو سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے، جبکہ عاشوراء کا روزہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے، اسی طرح جس  شخص کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل جائے تو اسکے گزشتہ سارے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔۔۔ مذکورہ تمام اعمال گناہوں کو مٹانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور چنانچہ اگر کوئی  صغیرہ گناہ موجود ہوا تو وہ مٹ جائے گا، اور اگر صغیرہ  یا کبیرہ کوئی بھی گناہ نہ ہوا تو اس کے بدلے میں نیکیاں لکھ دی جائیں گی، اور درجات بلند کر دئیے جائیں گے، ۔۔۔ اور اگر کوئی ایک یا متعدد کبیرہ گناہ  ہوئے، لیکن کوئی صغیرہ گناہ نہ پایا گیا ، تو ہمیں امید ہے کہ ان کبیرہ گناہوں میں کچھ تخفیف ہو جائے گی"۔ (المَجمُوع شرح المُهَذَّب-6 صوم یوم عرفہ)

9- روزے کے اجر پر بہت زیادہ تکیہ نہ کریں:

بعض لوگ ہوم عاشورہ اور یوف عرفہ کے روزے پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ کہتے ہیں کہ "عاشورہ' کا روزہ پورے سال کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور یوم عرفہ کا روزہ اضافی اجر رکھتا ہے"۔
امام ابن القیم (رح) فرماتے ہیں: وہ گمراہ انسان یہ نہیں جانتا کہ رمضان کے روزے، دن کی پانچ نمازیں یوم عرفہ اور یوم عاشورہ سے زیادہ اہمیت کی حامل ہیں۔ اور وہ گناہوں کو مٹاتی ہیں ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک، اور ایک جمعے سے دوسرے جمعے تک بشرطیکہ کسی کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کیا جائے۔ لیکن یہ صغیرہ گناہوں کا کفارہ اس وقت تک نہیں جب تک کبیرہ گناہوں سے بچا نہ جائے یعنی یہ دونوں باتیں (روزہ/نماز اور بڑے گناہوں سے اجتناب) ساتھ ہوں تو چھوٹے گناہوں سے مغفرت کی قوت ہوتی ہے۔ جو لوگ اس دھوکے میں ہیں ان میں سے کوئی سوچتا ہو کہ اس کے نیک کام اس کے گناہوں سے زیادہ ہیں کیونکہ وہ اپنے برے اعمال پر توجہ نہیں دیتا اور اپنے گناہوں کو نہیں جانچتا، لیکن اگر وہ کوئی اچھا کام کرتا ہے تو اس کو یاد رکھتا ہے اور اس پر انحصار کرتا ہے۔ یہ اسی طرح ہے کہ جو اپنی زبان سے اللہ سے مغفرت طلب کرے (یعنی صرف الفاظ کے ذریعے) اور اللہ کی تسبیح بیان کرے دن میں 100 مرتبہ 'سبحان اللہ' کہہ کر، اور پھر وہ مسلمانوں کی غیبت کرے ، ان کی عزت کو پامال کرے اور دن بھر ایسی باتیں کرے جو کہ اللہ کو ناپسند ہیں۔ وہ شخص ہمیشہ تسبیحات (سبحان اللہ) اور تہلیلات (لا الہ الا للہ) کے فضائل کا سوچتا ہے مگر اس پر توجہ نہین کرتا کہ غیبت کرنے والے، جھوٹ بولنے والے۔ بدمعاشی کرنے والے اور زبان کے دیگر گناہ کرنے والے کے بارے میں کیا احکام ہیں۔ وہ مکمل گمراہ ہیں۔" (الموسوعة الفقهية جلد 31 ، غرور)

10- ان اختراعات سے بچیں جو عاشورہ پرعام ہیں:

شیخ الاسلام ابن التیمییہ (رح) سے ان چیزوں کے بارے میں سوال کیا گیا جو لوگ عاشورہ کے دن کیا کرتے تھے، جیسے " سرمہ لگانا، غسل کرنا، مہندی لگانا، ایک دوسرے کے ساتھ مصافحہ کرنہ، معمول سے ہٹ پکوان پکانا، خوشی کا اظہار کرنا وغیرہ"۔ کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی صحیح حدیث سے ثابت ہیں یا نہیں؟ اگر صحیح احادیث میں اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا تویہ سب کرنا بدعت ہے یا نہیں؟ کیا اس بات کی کوئی بنیاد ہے جو ایک گروہ کرتا ہے جیسے غم اور ماتم، بغیر کچھ  پیے نکلنا، چیخنا اور چلانا، اپنے کپڑے پھاڑنا وغیرہ "
انہوں نے جواب دیا: تمام تعریفیں اللہ کے لیے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے اس بارے ميں كوئى صحيح حديث وارد نہيں،اور نہ ہى ان كے صحابہ كرام سے ثابت ہے، اور نہ ہى مسلمان آئمہ كرام ميں سے كسى ايك نے اسے مستحب قرار ديا ہے، نہ تو آئمہ اربعہ نے اور نہ ہى كسى دوسرے نے، اور اسى طرح بااعتماد اور معتبر كتابوں كے مؤلفين نے بھى اس بارہ ميں كچھ روايت نہيں كيا، نہ تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے اور نہ ہى صحابہ كرام اور تابعين عظام سے، اس بارہ ميں نہ تو صحيح روايت ہے اور نہ ہى ضعيف، اور نہ تو كتب صحيح ميں اور نہ ہى كتب سنن ميں اور نہ ہى مسانيد ميں. 

 اس كے علاوہ دوسرے امور، يہ سب كچھ بدعات اور منكرات ميں شامل ہوتے ہيں، جن نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثبوت نہيں ملتا اور نہ ہى ان كے خلفائے الراشدين سے مسنون ہے۔

ابن التیمییہ کی کتاب فتاویٰ الکبریٰ میں مذکور ہے کہ 'عاشورہ کی بدعات میں لازمی طور پر زکوۃ ادا کرنا، قربانی کرنا اور خواتین کا مہندی لگانا بھی ہے۔ 

اللہ تعالیٰ اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے علم حاصل کرنے کا ذریعہ بنائے اور ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق دے، ہمارے روزوں کو قول فرمائے اور ہمیں جنت کے اعلیٰ درجات میں بغیر حساب داخل فرمائے آمین یا رب العالمین۔




کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں