ہے زندگی کا مقصد


ہے زندگی کا مقصد
شاعر: نامعلوم


کوشاں سبھی ہیں رات دن اک پل نہیں قرار 
پھرتے ہیں جیسے ہو گرسنہ گُرگِ خونخوار
اور نام کو نہیں انہیں انسانیت سے پیار 
کچھ بات کیا جو اپنے لئے جاں پہ کھیل جانا

ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا 

سیرت نہ ہو تو صورتِ سُرخ و سفید کیا ہے 
 دل میں خلوص نہ ہو تو بندگی ریا ہے
جس سے مٹے نہ تیرگی وہ بھی کوئی ضیاء ہے 
ضد قول و فعل میں ہو تو چاہيئے مٹانا
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا

بھڑ کی طرح جِئے تو جینا تيرا حرام
 جینا ہے یہ کہ ہو تيرا ہر دل میں احترام
مرنے کے بعد بھی تيرا رہ جائے نیک نام
 اور تجھ کو یاد رکھے صدیوں تلک زمانہ
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا 

وعدہ ترا کسی سے ہر حال میں وفا ہو 
 ایسا نہ ہو کہ تجھ سے انساں کوئی خفا ہو
سب ہمنوا ہوں تیرے تُو سب کا ہمنوا ہو 
 یہ جان لے ہے بیشک گناہ “دل ستانا”
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا

تو زبردست ہے تو قہرِ خدا سے ڈرنا 
اور زیردست پر کبھی ظلم و ستم نہ کرنا
ایسا نہ ہو کہ اک دن گر جائے تو بھی ورنہ 
 پھر تجھ کو روند ڈالے پائوں تلے زمانہ

ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا 

مل جائے کوئی بھوکا کھانا اسے کھلانا 
مل جائے کوئی پیاسا پانی اسے پلانا
آفت زدہ ملے ۔ نہ آنکھیں کبھی چرانا 
مضروبِ غم ہو کوئی مرہم اسے لگانا
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا 

دل میں ہے جو غرور و تکبر نکال دے 
اور نیک کام کرنے میں اپنی مثال دے
جو آج کا ہو کام وہ کل پر نہ ڈال دے 
 دنیا نہیں کسی کو دیتی سدا ٹھکانا
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا

ایمان و دِین یہی ہے اور بندگی یہی ہے 
 یہ قول ہے بڑوں کا ہر شُبہ سے تہی ہے
اسلاف کی یہی روشِ اولیں رہی ہے 
تجھ سے بھی ہو جہاں تک اپنے عمل میں لانا
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا 

نفرت رہے نہ باقی ،نہ ظلم و ستم کہیں ہو 
اقدام ہر بشر کا اُمید آفریں ہو
کہتے ہیں جس کو جنت کیوں نہ یہی زمیں ہو 
 اقرار سب کریں کہ تہہِ دل سے ہم نے مانا
 ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں